خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد۴ 394 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفہ المسح الثانی نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات ، رسول کریم ، قرآن، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“ ( الفضل ۳۰ / جولائی ۱۹۳۱ء) اس عبارت کو اپنے سیاق وسباق سے الگ کر کے اس کتابچہ میں بڑے فخر کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔جس کو حکومت پاکستان کی طرف سے قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ“ کے نام سے شائع کیا گیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ دیکھیں جرم اقراری ہو گیا یعنی مجرم نے اقرار کر لیا اور اپنے منہ سے تسلیم کر لیا کہ ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور۔چنانچہ اس سرکاری کتا بچہ میں لکھا ہے: قادیانی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے اور دیگر مسلمانوں کے درمیان وجہ اختلاف صرف مرزا غلام احمد کی نبوت ہی نہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا خدا، ان کا اسلام ، ان کا قرآن ، ان کے روزے فی الحقیقت ان کی ہر چیز باقی مسلمانوں سے مختلف ہے۔اپنی ایک تقریر میں جو الفضل کے ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء کے شمارے میں مسلمانوں سے اختلاف“ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد کہتے ہیں ( آگے وہی عبارت درج ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں )۔“ ( قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ۔صفحہ ۲۶) اس سلسلہ میں پہلی بات جو کہنے کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ جس نے بھی اس کتا بچہ میں یہ عبارت تجویز کی ہے اور جس نے بھی یہ نتیجہ نکالا ہے ہم قطعی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس نے عمداً جھوٹ بولا ہے۔