خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 378
خطبات طاہر جلدم 378 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۸۵ء نہیں تھی اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے اسے ایک روحانی اور جسمانی فرزند عطا فرمایا۔پس خدا تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے جب نئے مراتب حاصل کرتے ہیں اور نئے نئے مقامات تک پہنچتے ہیں تو اس میں ان کے نفس کی ملونی کا ادنی سا بھی دخل نہیں ہوتا۔کسی شیطان نے ان کے کان میں نہیں پھونکا ہوتا کہ اٹھو اور اپنے بلند مقامات کا دعوی کر وکسی نفسانی خواہش اور انانیت نے ان کو اس بات پر نہیں اکسایا ہوتا کہ تم بلند مقامات کی خواہش کرو۔وہ تو زمین پر بچھے ہوئے عاجز لوگ ہوتے ہیں ، خدا کے ایک ایسے عاجز بندے جنہیں مراتب اور مقام عطا بھی فرمائے جائیں تو پھر بھی وہ کہتے ہیں۔کرم خا کی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر ۲۱ صفحه : ۱۲۷)) ایسے لوگ جب دعاوی کرتے ہیں تو ہر گز اپنے نفس سے نہیں کرتے ایسے لوگ اس وقت دعویٰ کرتے ہیں جب آسمان سے ان میں روح پھونکی جاتی ہے اور وہ مجبور کر دیئے جاتے ہیں اور خدا کا حکم ان پر نازل ہوتا ہے کہ اٹھو اور اپنی نئی پیدائش کا اعلان کرو۔تو ان میں سے پھر عیسی پیدا ہوتے ہیں جو آپ بھی زندہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی زندگی عطا کیا کرتے ہیں، جو مری ہوئی قوموں کو سنبھال لیا کرتے ہیں کتنی عظیم الشان مثال ہے جسے ظالم قوم نے تمسخر کا نشانہ بنالیا ہے۔پس ان مخالفین کو تو دو صورتوں میں سے ایک تو بہر حال قبول کرنی ہوگی۔اگر مریم کے مقام تک پہنچنے کی توفیق نہیں تو فرعون کی بیوی کا ہی مقام حاصل کر کے دکھائیں مگر افسوس ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو یہ بھی توفیق حاصل نہیں۔جبر سے کسی کا دین بدلوانے کو کوشش تو ضرور کرتے ہیں مگر جبر کے مقابل پر اپنے دین کی حفاظت کی کوئی توفیق اور ہمت ان میں باقی نہیں بلکہ وہ ایک جابر کی پرستش شروع کر دیتے ہیں ایک آمر کو پوری قوم قبول کر لیتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ان میں مظلوم بھی ہیں، کمزور بھی ہیں، بے اختیار بھی ہیں اور یہ بھی میں جانتا ہوں کہ ان میں صاحب ہمت بھی ہوں گے لیکن نسبتاً کم اور بد قسمتی سے قوم کی اکثریت ایسی ہو چکی ہے یا جبر کے ساتھ ایسی بنادی گئی ہے کہ اب ان میں کلمہ حق کہنے کی طاقت باقی نہیں رہی۔