خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد۴ 377 خطبه جمعه ۲۶ راپریل ۱۹۸۵ء ایسے حملے نہ کرتے جن کے نتیجہ میں پھر قرآن کریم ان پر جوابی حملے کرتا اور یہی اصل بات ہے اور میں نے انہیں بھی سمجھایا کہ اس میں تمسخر کی کوئی بات نہیں ہے۔میں آپ کو سمجھا تا ہوں کہ قرآن کریم کیا کہنا چاہتا ہے۔وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ مومن ادنیٰ حالت کے بھی ہوتے ہیں اور اعلی حالت کے بھی ،سب سے ادنی ، حالت کا مومن جسے قرآن کریم قبول کرتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس سے نیچے اس کی حالت متصور نہیں ہو سکتی وہ فرعون کی بیوی جیسا مومن ہے، ایک بہت بڑا جابر بادشاہ اس کا خاوند تھا ، ایک عظیم سلطنت کا سر براہ اور اتنا مغرور اور اتنا متکبر جو آسمان کے خدا کو بھی چیلنج کیا کرتا تھا وہ ہا مان سے کہا کرتا تھا کہ میرے لئے ایک عمارت تعمیر کروتا کہ میں بلندیوں پر چڑھ کر دیکھوں تو سہی کہ وہ خدا کون ہے جس سے موسیٰ باتیں کرتا ہے۔ایسے متکبر اور جابر اور ظالم بادشاہ کے تحت ایک کمز ور عورت بطور بیوی کے تھی جس کا کوئی بھی بس اور اختیار نہیں تھا تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس نے پھر بھی اپنے ایمان کی حفاظت کی اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرتی رہی اور دعائیں کرتی رہی اور دعاؤں سے ہی طاقت حاصل کرتی رہی کہ اے اللہ تو ہی میرے ایمان کی حفاظت فرما اور اس ظالم اور جابر بادشاہ کو میرے ایمان پر فتح نہ نصیب ہونے دے۔کتنی عظیم الشان مثال ہے لیکن عرفان سے عاری قرآن سے نابلد لوگوں کے لئے محض تمسخر کی حیثیت رکھتی ہے، بہت ہی عظیم الشان مثال ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ عظیم الشان مثال میرے محمد کے غلاموں میں سے ادنی غلاموں پر صادق آتی ہے ان کے اعلیٰ پر صادق نہیں آتی کیونکہ امت محمدیہ میں جو سب سے کم مقام رکھتے ہیں، جو سب سے کم درجہ رکھتے ہیں وہ اس شان کے لوگ ہیں جو ظالم سے ظالم اور جابر سے جابر بادشاہ کے مقابل پر اپنے ایمان کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ان میں سے جو اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں ، صاحب عرفان ہیں اور اولیاء اللہ میں شمار ہوتے ہیں ان کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ان کی حالت تو مریم کی سی ہوتی ہے۔مریم وہ عورت تھی جس کے نزدیک کسی قسم کے شہوانی خیالات کبھی نہیں پھنکے، وہ ہر قسم کے شیطانی مس سے کلیۂ پاک تھی اور اگر چہ بیاہ اور شادی کے بعد یہ تعلقات قدرتی اور طبعی ہوتے ہیں اور انہیں شیطانی نہیں کہا جاتا۔یعنی پاکباز لوگوں کے تعلقات کو شیطانی نہیں کہا جا تا لیکن مریم کی حالت تو ایسی تھی کہ وہ اس جذباتی انکیٹ سے ہی نا آشنا تھی اور اپنے نفس کی کوئی ملونی بھی اس کے اندر