خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۴ نہیں بچ سکتا۔ 376 خطبه جمعه ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ء چنانچہ جس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں مومنوں کی دو ہی حالتیں بیان فرمائی گئی ہیں تیسری کوئی شکل بیان نہیں ۔ یعنی اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یا تو مومن فرعون کی بیوی کے طور پر ہے اور اس پر وہی مثال صادق آتی ہے جو آسیہ کی تھی یا پھر مومن پر مریم کی مثال صادق آئے گئی۔ یعنی اس مریم کی مثال جس میں ہم نے روح پھونکی اور پھر اس سے مسیح ابن مریم پیدا ہوا محض مریم کی مثال نہیں بلکہ ایسی مریم کی مثال جس میں روح پھونکی گئی اور وہ حاملہ ہوئی اور اس کے نتیجہ میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔ پس قرآن کریم تو مومنوں کی دو ہی مثالیں بیان کرتا ہے تیسری کسی قسم کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اگر آپ کو مریمی حالت پسند نہیں تو پھر فرعون کی بیوی بن کر دکھائیے کیسے بنیں گے آپ؟ اور اگر آپ نہ فرعون کی بیوی بن سکتے ہیں اور نہ مریم تو پھر آپ دائرہ ایمان سے باہر نکلتے ہیں کیونکہ یہی آیت مومنوں کو ان دو قسموں میں سے کسی ایک میں ضرور داخل کرتی ہے۔ صلى الله عروسه امر واقعہ یہ ہے کہ ان مخالفین کی نہ قرآن پر نظر، نہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات اور سنت کا فہم ، نہ اپنے گزشتہ بزرگوں اور علماء کی تعلیمات اور ان کی تفاسیر قرآن پر نظر کیونکہ اگر ان کی ان تمام امور پر نظر ہوتی تو وہ اس قسم کا حملہ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ اس آیت کریمہ کو ایک دفعہ میں نے ایک مخالف مولوی کے سامنے اس طرح رکھا تھا کہ دیکھیں آپ نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تمسخر اڑایا ہے اور مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ بتاؤ حاملہ کیسے ہوئے کس طرح بچہ بنا، کتنے مہینے بعد وہ بچہ پیدا ہوا اور کس قسم کی تکالیف اٹھائیں۔ میں نے ان سے کہا چونکہ آپ کو مریم بننا پسند نہیں ہے اور ساتھ ہی آپ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس لئے پھر لازماً فرعون کی بیوی ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا اور چونکہ قرآن کریم نے فرعون کی بیوی کی مثال پہلے دی ہے اور بعد میں مریم کی اس لئے پہلے آپ مجھے وہ قصہ سنا دیجئے کہ فرعون کی بیوی کیسے بنے پھر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مریمی حالت کا قصہ سنا دوں گا جس نہج پر آپ بات شروع کریں گے میں اسی کو آگے چلا کر آپ کو بتاؤں گا کہ مریمی حالت کسے کہتے ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ عرفان سے عاری ہیں جنہیں قرآن کریم کا کوئی فہم ہی نہیں ورنہ