خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد ۴ 366 خطبه جمعه ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید ہے ۔“ 66 روزنامه تسنیم لاہور ۱۵ اگست ۱۹۵۲ء صفحه ۱۴) مگر جو سلوک ہے یہ وہ نہیں کر رہے یہ کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کرنا چاہتے ہیں اس کے کیا عقلی نتائج نکلنے چاہئیں اس بارہ میں میں انشاء اللہ ایک الگ خطبہ میں ذکر کروں گا۔ علاوہ ازیں ایک فتویٰ یہ بھی ہے کہ پر ویزیوں کے بچوں کا جنازہ بھی حرام ہے۔ (ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی ، اپریل ۱۹۶۷ ء صفحہ۴۲ ۴۳ ) دیو بندیوں کے علاوہ اہل حدیث بھی ہیں یعنی ہیں تو بنیادی طور پر آپس میں ملتے جلتے لیکن مقلد اور غیر مقلد کا باریک فرق ہے اس لئے اہل حدیث کے بارہ میں الگ فتوی بھی شائع کیا گیا۔ لکھا ہے: دو وہابیہ وغیرہ مقلدین زمانه با تفاق علمائے حرمین شریفین کا فر و مرتد ہیں ایسے کہ جوان کے اقوال ملعونہ پر اطلاع پا کر انہیں کافر نہ جانے یا شک بھی کرے خود کافر ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں ان کا نکاح کسی مسلمان کا فریا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔ ( یعنی اہلحدیث بیچاروں کا تو یہ حال ہے کہ کسی کافر اور مرتد سے بھی وہ نکاح نہیں کر سکتے ۔ ناقل ) ان کے ساتھ میل جول ۔ کھانا پینا ۔ اٹھنا بیٹھنا۔ سلام کلام سب حرام ہے ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں ۔“ (فتاوی ثنائیہ جلد ۲ صفحه ۲۰۹ مرتبه الحاج محمد داؤ در از خطیب جامع اہلحدیث ) کئی اور بڑے دلچسپ فتوے ہیں لیکن وقت نہیں اس لئے چھوڑتا ہوں۔ کہتے ہیں ہم جو یہ فتوے دے رہے ہیں یہ صرف اس لئے نہیں کہ ان کا مسلمانوں سے نکاح نہیں ہو سکتا بلکہ کہتے ہیں کافروں اور مشرکوں سے بھی نہیں ہو سکتا کسی انسان سے بھی نہیں ہو سکتا ہر صورت میں اولا د ولد الزنا کہلائے گی اور یہاں اس حد تک جا کر بھی ان کی پوری تسلی نہیں ہوئی کہتے ہیں اگر کسی جانور سے بھی شادی کر لیں اور اس سے اولاد ہو تو وہ بھی ولد الزنا اور محروم الارث