خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد ۴ 361 خطبه جمعه ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔ یہ بیمار ہوں تو عیادت کونہ جائیں ۔ مریں تو گاڑ نے تو پینے میں شرکت نہ کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔ غرض ان سے بالکل احتیاط واجتناب رکھیں ۔ (ایضاً) یہ ہے حضرات علمائے اہل سنت کے فتوؤں کا خلاصہ اور بے اور ریہ فتوے دینے والے صرف ہندوستان ہی کے علماء نہیں ہیں بلکہ جب وہابیہ دیوبندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان و خیوا و بخار او ایران و مصر و روم و شام اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ وغیرہ تمام دیار عرب و کوفہ و بغداد شریف غرض تمام جہان کے علمائے اہل سنت نے بالا اتفاق یہی فتویٰ دیا ہے کہ: ان عبارتوں سے اولیاء انبیاء اور خود خدائے تعالیٰ شانہ کی سخت سخت اشد اہانت و توہین ہوئی۔ پس وہابیہ دیو بند یہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں ایسے کہ جوان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا ، اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی وہ حرامی ہوگی اور از روئے شریعت تر کہ نہ پائے گی ۔ (ایضاً) یہ ہیں ان مولویوں کے فتوے لیکن جماعت احمدیہ کے اس فتوے کو اچھالا جا رہا ہے جس کے ساتھ دلائل دیئے گئے ہیں ۔ مہذبانہ گفتگو کی گئی ہے اور قرآنی آیات پر بناء کرتے ہوئے استدلال کیا گیا ہے ۔ پھر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سے کیا سلوک ہونا چاہئے جنہوں نے وہابیوں دیو بندیوں کو کافر ٹھہرا کر ان کی جڑ ہی اکھاڑ دی ہے۔ اب ان کتابوں کے نام سنتے جن میں ان فتوی کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں : (1) تقدیس الوكيل (2) السيف المسلول (3) عقائد وہابیہ دیو بند یہ ( 4) تاریخ دیوبندیہ (5) حسام الحرمین (6) فتاویٰ الحرمین (7) الصوارم الہند یہ علی مکر شیاطین الدیوبندیہ۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اب دیو بندیوں کا بریلویوں کے خلاف فتوی سن لیجئے ۔ مندرجہ بالا فتوی کا جواب انہوں نے ایک ہی فقرہ میں اکٹھا دے دیا ہے۔ لکھا ہے : یہ سب تکفیریں اور لعنتیں بریلوی اوراس کے اتباع کی طرف