خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 353

خطبات طاہر جلدم 353 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے تکفیر کا یہ فتویٰ سب سے زیادہ مہذب اور نرم الفاظ میں دیا گیا جس میں دلائل کے ساتھ بار بار سمجھا کر بتایا گیا ہے کہ اس لحاظ سے تم کافر بنتے ہو لیکن جنہوں نے پہل کی وہ ایک ایسا باب ہے جس کو آج کے بعض مسلمان عمدا اور بعض غیر ارادی طور پر یالا علمی کی وجہ سے بھول چکے ہیں۔اس پر نظر نہیں رکھتے اور یہ باب بھی اتنا گندا اور بھیانک ہے کہ اس کے تمام صفحات آپ کے سامنے پیش نہیں کئے جاسکتے۔میں نے صرف چند نمونے پیش کرنے کے لئے منتخب کئے ہیں۔سے پہلے تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مولویوں کی طرف سے کیا سلوک کیا گیا۔آپ فرماتے ہیں: ”مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صد ہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود ونصاری سے بدتر قرار دیا اور میر انام کذاب ،مفسد، دجال ،مفتری، مکار ٹھنگ، فاسق فاجر خائن رکھا۔تب خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ صحت نیت کے ساتھ ان تحریروں کی مدافعت کروں۔میں نفسانی جوش سے کسی کا دشمن نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک سے بھلائی کروں مگر جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو میں کیا کروں۔میرا انصاف خدا کے پاس ہے۔ان سب مولوی لوگوں نے مجھے دکھ دیا اور حد سے زیادہ دکھ دیا اور ہر ایک بات ہنسی اور ٹھٹھا کا نشانہ بنایا۔پس میں بجز اس کے کیا کہوں کہ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (يس: ۳۱) ( تم حقیقة الوحی صفحه ۲۱ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵۳) یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے واضح موقف کی ابتدالیکن جہاں تک مخالف مولویوں کے فتاویٰ کا تعلق ہے جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختصر) فرمایا ہے ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور سب سے پہلے مولوی عبدالصمد غزنوی کے فتویٰ کو لیتا ہوں۔مولوی غزنوی صاحب نے لکھا کہ :