خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 29

خطبات طاہر جلدم 29 29 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام دنیا میں کلمہ توحید کی برتری کے لئے ، اس کی سر بلندی کے لئے اپنے وجود کا ذرہ ذرہ صرف کر دے۔کلمہ کا ورد کرے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی توحید کے گن گائے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ملے پر بکثرت درود بھیجے اور توحید کے قیام کے لئے اپنی کوششوں کو تیز تر کر دے۔یہی جواب ہے اور جب عملاً ہم کلمہ سے محبت کا اس رنگ میں اظہار کریں گے کہ اگر ایک جگہ کوشش کی جارہی ہے کہ ہم سے کلمہ کو چھین لیا جائے تو ہزار جگہ ہم کلمے کے جھنڈے کو بلند کر کے اس کوشش کو نا کام کر رہے ہوں گے اور اگر ہمارے دلوں میں واقعۂ حسرتیں ہوں گی ان لوگوں کے لئے۔ان کی ناپاک کوششوں پر تکلیف تو ہوگی لیکن ان کی ہلاکت پر پھر بھی حسرت نہیں ہوگی ، اگر ہم اس نیک جذبے کو اپنا ئیں گے اور اس سنت محمد مصطفی ﷺ کو زندہ کریں گے تو یقین رکھیں کہ سنت محمد مصطفی کو زندہ کرنے والوں کو خدا نے کبھی مرنے نہیں دیا، آپ کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔یہ عجیب دور ہے کہ تضاد پر تضاد بڑھتا چلا جارہا ہے اس ملک میں اور ان کو کوئی سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں اور کر کیا رہے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ایک یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس ملک میں یعنی پاکستان میں مشرکوں کی کوئی جگہ نہیں۔بالکل سچ ہے جو ملک کلمہ تو حید کی خاطر بنایا گیا ہواس میں مشرکوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے لیکن مشرک کون تھا وہ جو کلمہ کی خاطر جانیں دے رہا تھا یا وہ جو کلمہ مٹانے کے درپے تھا۔مشرک دو قسم کے ہوتے ہیں کچھ وہ مشرک جو بُت بناتے ہیں اور اُن کی پوجا کرتے ہیں ، اپنے نفس کی خواہشوں کو خدا بنالیا کرتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں لیکن اپنے کام سے کام رکھتے ہیں وہ لوگ بھی یقیناً خدا کے غضب کا مورد بنتے ہیں لیکن کچھ بد قسمت ایسے بھی مشرک ہوا کرتے ہیں جو شرک کے انتہائی مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔وہ صرف بچوں کی عبادت نہیں کرتے ، وہ صرف خود اپنے آپ کو خدا بنوانے کی کوشش نہیں کیا کرتے بلکہ بچے خدا کی بادشاہی کو تباہ کرنے کے در پے ہو جاتے ہیں۔وہ کلمہ توحید کو برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی ساری کوششیں اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ کسی طرح کلمہ تو حید کو مٹایا جائے ایسے مشرکوں کا حال بدتر ہوا کرتا ہے۔پس آج یہ عجیب واقعہ گزرا ہے کہ تو حید کے نام پر کلمہ کی حفاظت کا کام تو ہمارے سپرد کر دیا گیا ہے اور کلمہ کو مٹانے کا کام حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور کثرت کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ حکومت کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت کے کارندے زبر دستی احمد یہ مساجد