خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 28

خطبات طاہر جلدم 28 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا پھر اُس علاقے کو جسکے مقدر میں ہم نے زندگی رکھ دی ہو، جسے ہم نے اپنی رحمت سے دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہو، وہ بادل سیراب کرتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے تمہاری نظر کے سامنے یہ عجیب معجزہ گذرتا ہے کہ مردہ لوگ جی اُٹھتے ہیں اور صدیوں سے جو قبروں میں پڑے ہوئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی زندگیاں پا کر قبروں سے باہر نکلنے لگتے ہیں۔فرمایا كَذلِكَ النُّشُورُ اسی طرح ان مردہ لوگوں کا نشور ہوگا، ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔عظیم الشان محبت اور پیار کا اظہار ہے اور کیسے پیار سے تسلی دے دی گئی کہ ہم تجھے جو یہ کہتے ہیں کہ غم نہ کر تو محض اس لئے نہیں کہ مرنے دو ان کو اور غم نہ کرو بلکہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے تمہاری گریہ وزاری کو سنا، تمہارے دل کے غم پر نگاہ فرمائی اور اسے قبولیت کا درجہ بخشا اور ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ مردوں کو زندہ کریں اور دراصل یہ تیرے دل کی آہوں کا اثر ہے کہ جس کے نتیجہ میں رحمت کے بادل ان پر برسنے والے ہیں۔پس زندگی کا نسخہ بھی ساتھ ہمیں بتا دیا۔قوم کی نفسیات کا تجزیہ بھی کر دیا اور صحیح طریق بتایا کہ کس طرح اس قوم کی تم مدد کر سکتے ہو۔پس جماعت احمدیہ کے لئے بھی کوئی مایوسی کی وجہ نہیں ہے۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر:۵۷) لَا تَايْسُوا مِنْ رَّوْحِ اللهِ (یوسف: ۸۸) ہرگز اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ہرگز یہ وہم بھی دل میں نہ لاؤ کہ معاملہ ہاتھ سے اس طرح نکل چکا ہے کہ اب اس قوم کے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔جو لوگ اس قسم کے فیصلوں میں جلدی کر دیتے ہیں وہ بہت بڑی بڑی کامیابیوں سے محروم رہ جایا کرتے ہیں اس لئے مومن کا یہ کام ہے کہ آخر وقت تک اپنی جدو جہد کو جاری رکھے اور اپنی امیدوں کو منقطع نہ ہونے دے اور دعاؤں کے ذریعہ اور صبر کے ذریعہ اور نیک نصیحت کے ذریعہ اپنی ذمہ داریوں کو آخر دم تک ادا کرتا رہے جس طرح سپاہی وہی اچھا لگتا ہے جو آخر وقت تک لڑتا ہوا میدان میں مارا جاتا ہے پھر اس کی موت بھی زندگی بن جاتی ہے اور اس کی زندگی بھی زندگی ہوا کرتی ہے۔پس الہبی جماعتوں کی بھی یہی شان ہوا کرتی ہے کہ وہ آخر وقت تک اپنے پیغام سے غافل نہیں رہتے۔اپنے فرائض کو ادا کرتے چلے جاتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم میں سے ہر ایک ان اعلیٰ نتائج کو دیکھ سکے گا یا نہیں جن کے وعدے ہم سے کئے جاتے ہیں اس لئے اس دور میں