خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 352
خطبات طاہر جلدم 352 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء نے تمام مسلمانوں کو کا فر ٹھہرایا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ص -۱۲۳) یہاں ضمنا یہ بات بھی کھول دینی ضروری ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے کسی کو غیر مسلم ٹھہرانے کا حق کسی انسان کو نہیں دیا گیا اور اسلام کا دعویٰ کرنے والے کو خواہ وہ کیسا بھی ہو اور خواہ اس کے دل میں ایمان کا ایک ذرہ بھی نہ ہو اس کو بھی خدا یہ اجازت دیتا ہے کہ مسلمان کہلا تا ر ہے لیکن دوسروں کو یہ حق دے دیا کہ جن کو خدا خبر دے یا جن کے پاس دلیل ہو وہ کسی کو کافر ٹھہراد میں ان دو چیزوں میں بہت فرق ہے جب فرمایا لَّمْ تُؤْمِنُواتم ایمان نہیں لائے تم اپنے آپ کو مومن نہ کہو تو کا فرٹھہرانا اور کس کو کہتے ہیں؟ کافر ٹھہرانے کا حق تو دیا لیکن قطعی خبر کے نتیجہ میں کسی پختہ دلیل اور برہان کے نتیجہ میں نہ یہ کہ ویسے ہی شغلا ایک دوسرے کو کا فرٹھہرانے کا وطیرہ بنالیا گیا ہو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب لوگوں کو کافر ٹھہرایا تو آپ کا ایسا کرنا قرآن کے منشاء کے عین مطابق تھا اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کی منشاء کے بھی عین مطابق تھا۔ایسا کرتے وقت آپ نے وہ تمام دلائل پھر پیش فرمائے جن کے نتیجہ میں قرآن اور حدیث کی رو سے ایسا شخص کافر ٹھہرائے جانے کا مستحق بنتا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث پیش فرمائی اور اسی پر بناء کرتے ہوئے اپنا موقف پیش فرمایا کہ جوشخص بھی کسی مومن کو کافر کہہ دے تو ایسا کفر اسی کہنے والے پر آن پڑتا ہے اور وہ شخص خود کا فرٹھہرتا ہے۔چنانچہ ایسے بہت سے اقتباسات ہیں جن سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تفصیل سے پہلے اپنے مخالفین کو سمجھانے کی کوشش فرمائی اور آپ نے ان کو بار بار متنبہ فرمایا کہ تم ایسی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ ہمارے لئے پھر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ تمہیں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق وہی کچھ سمجھیں جو حدیث سے مستنبط ہے۔آپ نے بار بار فرمایا کہ دیکھو ہم تم پر حجت تمام کرتے ہیں تم ان حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ تمہارا کفر تم پر لوٹ کر پڑے گا اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ تمہیں کافر سمجھیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ فرمان ہے جس سے کوئی مسلمان سرمو انحراف نہیں کر سکتا۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فتویٰ کفر کا تعلق ہے اس پہلو سے بھی یہ فتویٰ ایک امتیاز رکھتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مولویوں کی تکفیر کے بعد یہ فتویٰ دیا بلکہ حضرت مسیح موعود