خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 351

خطبات طاہر جلدم 351 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء عنوان ” نئے مذہب کے مضمرات رکھا گیا ہے اور اس باب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جماعت احمد یہ چونکہ واضح طور پر دوسرے مسلمانوں کو کا فرکہتی ہے اس لئے عقلی تقاضا ہے کہ ہم بھی انہیں کا فر کہیں، پس احمدیوں کو پھر اعتراض کس بات پر ہے۔باہر کی دنیا والے جوان بار یک مسائل کو نہیں سمجھتے ان کے سامنے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ اس سے زیادہ معقول اور کیا طریق ہو سکتا ہے۔یہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ احمدیت کو نہ ماننے والے کا فر ہیں اس کے مقابل پر جب ہم ان کو کافر کہتے ہیں تو یہ شور مچادیتے ہیں اور ساری دنیا میں بدنام کرتے ہیں حالانکہ یہ تو ان کے دعوی کا ایک طبعی تقاضا ہے اور اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔دوسرا موقف یہ پیش کیا گیا ہے کہ احمدیوں نے صرف ہمیں کا فر ہی نہیں ٹھہرایا بلکہ امر واقعہ کے طور پر امت مسلمہ سے وہ تمام تعلقات منقطع کر لئے جن کی بنا پر امت مسلمہ ایک امت کہلانے کی مستحق ہوتی ہے۔پس جب ہر قسم کے تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات منقطع کر کے یہ خود ہم سے الگ ہو گئے تو ان کی اس حرکت کا نام جب ہم نے الگ ہو نا رکھا تو ان کو غصہ آگیا کہ تم ہمیں الگ کیوں کرتے ہو۔جب اپنے منہ سے، اپنے الفاظ سے الگ ہوئے ، ہر بات میں اپنے تعلقات توڑ لئے تو کیا اب ہم ان کو یہ بھی نہ کہہ سکیں کہ ہاں تم الگ ہو گئے ہو اس لئے اب ہمارا تو اس میں کوئی جرم نہیں۔بظاہر اس موقف میں بڑی معصومیت پائی جاتی ہے لیکن جب ہم آگے چل کر اس کا مزید جائزہ لیں گے تو بات کھلتی چلی جائے گی اور صورت حال بالکل برعکس نظر آئے گی۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے اور سراسر جھوٹا الزام ہے کہ جماعت احمدیہ نے کفر کے فتوے میں پہل کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھا۔آپ نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا: کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کا فر ٹھہرایا تھا۔اگر کوئی ایسا کاغذ یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتویٰ کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کا فرٹھہرایا ہے تو وہ پیش کریں۔ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر تو خود ٹھہر اویں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگاویں کہ گویا ہم