خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 348
خطبات طاہر جلدم 348 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء کے اعتبار سے مسلمان کہلائے لیکن اس میں کچھ ایسے موجبات کفر ہوں ”اسلام“ کے بنیادی عقائد کے خلاف کچھ ایسے امور پائے جائیں یا اس کے اعمال میں ایسا فسق ہو کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس پر کفر کا حکم اطلاق پائے۔لیکن جہاں تک ملت اسلامیہ کا تعلق ہے ایسا شخص مسلم ہی کہلا تا رہا اور مسلم ہی کہلاتا ہے۔اس بحث کی بنیاد مختلف احادیث نبویہ پر بھی ہے اور ان آیات کریمہ پر بھی ہے جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر دیتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا اعراب یعنی بدوی یہ ادعا کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں، ہم ایمان لے آئے میں قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا تو ان سے کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا ہاں یہ بے شک کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں، جب کہ ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا وَإِنْ تُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَة۔۔۔۔۔۔الخ) ہاں اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہونے دے گا ، اللہ تعالیٰ بہت ہی مغفرت کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، یقیناً مومن وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی حالت میں بھی اس ایمان پر شک نہیں کیا یا ان کی صداقت پر شک نہیں کیا اور اپنے اعمال میں سے اپنی صداقت کو یوں ثابت کیا کہ اپنے اموال سے بھی خدا کی راہ میں جہاد کیا اور جانوں سے بھی خدا کی راہ میں جہاد کیا ، ہاں یہی لوگ ہیں جو صادق ہیں۔ان لوگوں سے کہہ دو کہ کیا تم اللہ کو دین سکھاؤ گے یا اپنا دین خدا کو سمجھاؤ گے۔اللہ جانتا ہے جو آسمان میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔جبکہ ان آیات میں سے سب سے پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔جہاں تک عزت کا تعلق ہے اللہ کے نزدیک عزت تقویٰ میں ہے عزت اسی کی ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہواور اللہ بہت جانے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے۔ویسے تو ان تمام آیات کا اس مسئلہ سے تعلق ہے جو میں نے تلاوت کی ہیں لیکن اس مسئلہ سے براہ راست تعلق رکھنے والی آیت قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ) ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بادیہ نشین یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔کسی انسان کو یہ حق خدا نے نہیں