خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 347
خطبات طاہر جلدم 347 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء انتہائی ظالمانہ تکفیر و تکذیب کے مقابلہ میں حضرت بانی سلسلہ کا صبر و حمل ، ہمت و حوصلہ اور ابلاغ حق ( خطبه جمعه فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں: يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرِ وَ أُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أنفُسِكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتُكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوْا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيْلِ اللهِ أوليكَ هُمُ الصُّدِقُونَ ) ( الحجرات : ۱۴ (۱۲) اور پھر فرمایا: آغاز اسلام ہی سے کفر دون کفر اور ایمان دون ایمان کی اصطلاح رائج چلی آ رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان ظاہری فتویٰ کے اعتبار سے یا اپنے ادعا