خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 340

خطبات طاہر جلد ۴ انداز کی جاسکیں۔ 340 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء اب بیٹھے قیامت تک زور لگاتے رہو۔ اب سارے مل کر قیامت تک جو چاہو لکھو حضرت مرزا صاحب کی تحریروں کو اب تم نظر انداز نہیں کر سکو گے۔ پھر لکھتے ہیں : دو آئندہ امید نہیں ( کتنا سچ کہا ہے ۔ ناقل ) کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہش محض اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صرف کر دے۔“ اخبار وکیل امرتسر جون ۱۹۰۸ء بحوالہ بدر قادیان ۱۸ رجون ۱۹۰۸ء ص ۲۳) پھر اخبار وکیل“ میں ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک مقالہ لکھا گیا جس میں مقالہ نگار نے تحریر کیا کہ: ” جب کہ ان کی عمر ۳۵ ۳۶ سال کی عمر تھی ہم ان کو غیر معمولی مذہبی جوش میں سرشار پاتے ہیں وہ ایک سچے اور پاک باز مسلمان کی طرح زندگی بسر کرتا ہے اس کا دل دنیوی کششوں سے غیر متاثر ہے وہ خلوت میں انجمن اور انجمن میں خلوت کا لطف اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے ہم اسے بے چین پاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے۔“ 66 اسلام کے غلبہ کی تلاش تھی ، اس یوسف کی تلاش تھی جس کی خوشبوئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آرہی تھیں ۔ ه آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار در ثمین صفحه : ۱۳۰ مناجات اور تبلیغ حق ) یہ کیفیت تھی جس میں ایک غیر نے آپ کو دیکھا اور ان الفاظ میں اظہار کیا: کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے جس کا پتہ فانی دنیا میں نہیں ملتا۔ اسلام اپنے گہرے رنگ کے ساتھ اس پر چھایا ہوا ہے کبھی وہ آریوں سے