خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد ۴ صلى الله عروسه 27 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۸۵ء مصطفی علی کے دل پر نگاہ کر کے اللہ تعالیٰ اپنے پیار اور محبت کا اظہار فرماتا ہے اور ایک عظیم الشان داد تحسین دیتا ہے ۔ فرماتا ہے جب ہم ان لوگوں کی باتیں کرتے ہیں تو ہمارے اس بندے کو اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ یہ لوگ ہلاک ہو جا ئیں گے، اتنا شدید غم پہنچتا ہے ان کی ہلاکت کے متعلق جو ایک طبعی نتیجہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے یعنی یہ تو سوال ہی نہیں کہ ہلاک نہیں ہوں گے ہلاکت تو مقدر ۔ صلى الله مقدر ہے ، فرمایا محمد مصطفی علی علی ہمارے اس بندے کا حال یہ ہے کہ ان کی ہلاکت کے تصور سے وہ غمگین ہو جاتا ہے، اس کے دل میں حسرتیں اٹھتی ہیں کاش یہ لوگ کسی طرح سمجھ سکیں ۔ کاش یہ لوگ ہلاکت کی طرف اس طرح نہ بڑھ رہے ہوتے جس طرح یہ باگیں تڑوا کر کوئی جانور بھٹکتا ہوا ایک ہلاکت کے گڑھے کی طرف جا رہا ہو۔ لیکن ساتھ ہی اگلی آیت میں ایک نہایت لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی فرما دیا کہ ضروری نہیں کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں اور انہیں ہدایت نصیب نہ ہو جیسا کہ پہلی آیت میں ہی فرمایا تھا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۔ آگے ایک خوشخبری بھی عطا فرمائی۔ فرمایا ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ بچا لئے جائیں یعنی ان معنوں میں بچا لئے جائیں کہ ان میں سے بہتوں کو سمجھ آجائے وہ اپنی ان بیوقوفیوں سے باز آجائیں وہ ہلاکت کے رستہ پر چلنے سے رک جائیں چنانچہ فرمایا: وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ (فاطر: ۱۰) اے محمد ! ہم تیرے دل کے حال سے خوب واقف اور آشنا ہیں اور تیرے دل کی جو حسرتیں ہیں ان کو ہم اس طرح قبول فرماتے ہیں اور ان کا اس طرح ازالہ کریں گے کہ ہم تجھے بتاتے ہیں کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شہر ایک بستی مر چکی ہوتی ہے پانی کے بغیر ، کوئی اس میں زندگی کے آثار نظر نہیں آتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ رحمت کی ہوائیں چلاتا ہے اور ان رحمت کی ہواؤں کے نتیجہ میں فضا میں بادل اُڑتے ہوئے اس بستی کی جانب بڑھتے ہیں ۔ فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيِّتِ ہم ان کارخ ان مردہ بستیوں کی طرف پھیر دیتے ہیں ان ہواؤں کا اور ان رحمت کے بادلوں کا -