خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 27
خطبات طاہر جلدم 27 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء مصطفی اے کے دل پر نگاہ کر کے اللہ تعالیٰ اپنے پیار اور محبت کا اظہار فرماتا ہے اور ایک عظیم الشان داد تحسین دیتا ہے۔فرماتا ہے جب ہم ان لوگوں کی باتیں کرتے ہیں تو ہمارے اس بندے کو اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے، اتنا شدید غم پہنچتا ہے ان صلى الله کی ہلاکت کے متعلق جو ایک طبعی نتیجہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے یعنی یہ تو سوال ہی نہیں کہ ہلاک نہیں ہوں گے ہلاکت تو مقدر ہے، فرمایا محمد مصطفی میں کہ ہمارے اس بندے کا حال یہ ہے کہ ان کی ہلاکت کے تصور سے وہ غمگین ہو جاتا ہے، اس کے دل میں حسرتیں اٹھتی ہیں کاش یہ لوگ کسی طرح سمجھ سکیں۔کاش یہ لوگ ہلاکت کی طرف اس طرح نہ بڑھ رہے ہوتے جس طرح یہ با گئیں تڑوا کر کوئی جانور بھٹکتا ہوا ایک ہلاکت کے گڑھے کی طرف جارہا ہو۔لیکن ساتھ ہی اگلی آیت میں ایک نہایت لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی فرما دیا کہ ضروری نہیں کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں اور انہیں ہدایت نصیب نہ ہو جیسا کہ پہلی آیت میں ہی فرمایا تھا فَإِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ۔آگے ایک خوشخبری بھی عطا فرمائی۔فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ بچالئے جائیں یعنی ان معنوں میں بچالئے جائیں کہ ان میں سے بہتوں کو سمجھ آجائے وہ اپنی ان بیوقوفیوں سے باز آجائیں وہ ہلاکت کے رستہ پر چلنے سے رک جائیں چنانچہ فرمایا: وَاللهُ الَّذِى اَرْسَلَ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ (فاطر: ۱۰) اے محمد ! ہم تیرے دل کے حال سے خوب واقف اور آشنا ہیں اور تیرے دل کی جو حسرتیں ہیں ان کو ہم اس طرح قبول فرماتے ہیں اور ان کا اس طرح ازالہ کریں گے کہ ہم تجھے بتاتے ہیں کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شہر ایک بستی مر چکی ہوتی ہے پانی کے بغیر ، کوئی اس میں زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔پھر اللہ تعالیٰ رحمت کی ہوائیں چلاتا ہے اور ان رحمت کی ہواؤں کے نتیجہ میں فضا میں بادل اُڑتے ہوئے اس بستی کی جانب بڑھتے ہیں۔فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيِّتِ ہم ان کا رخ ان مردہ بستیوں کی طرف پھیر دیتے ہیں ان ہواؤں کا اور ان رحمت کے بادلوں کا۔