خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد۴ 327 خطبه جمعه ۱۲ / اپریل ۱۹۸۵ء متعلق حضرت رسول اکرم ﷺ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ کافروں کا لباس ہے اس لئے کوئی مسلمان زرد کپڑے استعمال نہ کرے۔اب میں اس اعتراض کا دوسرا حصہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں مبینہ وائٹ پیپر ( قادیانیت اسلام کے لئے سنگین خطرہ۔اسلام آباد برق سنز پر نٹر زلمیٹیڈ ۱۹۸۴ء) میں اس اعتراض کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: احادیث نبوی میں بڑی صراحت اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسی ابن مریم دمشق میں اتریں گے اور مسلمانوں کو عظیم فریب کار الدجال کے فتنہ سے نجات دلائیں گے لیکن مرزا صاحب اس حدیث کو مضحکہ خیز تاویل سے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔“ مفہوم از حاشیہ ازالہ اوہام صفحات ۶۳ تا ۳ ۷ طبع اول) اس کے بعد وہ تاویلیں درج ہیں کہ دمشق سے مراد دمشق نہیں بلکہ مثیل دمشق ہے اور مسیح سے مراد مسیح نہیں بلکہ مثیل مسیح ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اتنی مضحکہ خیز تاویلیں کرنے والا شخص کیا اسلام اور عالم اسلام کے لئے خطرہ نہیں ہے؟ اس اعتراض کے جواب کو میں نے دو طریق سے لیا ہے ایک تو یہ کہ لفظ نزول کیا ہے اور ان کے نزدیک نزول کا ترجمہ یہ کرنا کہ آسمان سے اترنے کی بجائے کوئی شخص پیدا ہو گیا ہے، یہ کیوں مضحکہ خیز ہے۔کیا اس دعوی میں کوئی معقولیت ہے کہ نزول کا ترجمہ آسمان سے اترنے کی بجائے زمیں پر پیدا ہونا کرلیا جائے۔۔۔۔۔دوسرا یہ کہ یہ مضحکہ خیزی کیوں کی۔اگر یہ مضحکہ خیزی جو جماعت کی طرف منسوب کی جارہی ہے اسے تسلیم نہ کیا جائے تو پھر دوسری صورت کیا بنتی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ مضحکہ خیز ہے یا یہ تاویل مضحکہ خیز ہے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔اب میں ان دونوں پہلوؤں سے اس مسئلہ کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے تو لفظ ” نزول کی بحث ہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ بار بار مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور اس میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے ہر وہ چیز جو غیر معمولی فائدہ رکھتی ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے ایک عظیم احسان کے طور پر دنیا کو عطا کیا ہے اس کے لئے قرآن کریم لفظ نزول