خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 326

خطبات طاہر جلدم 326 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہگار اور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد و باغی بد کردار تھے۔“ (اشاعۃ السنۃ النبویہ جلد ۹ نمبر ۱۰) اس جہاد میں جماعت احمدیہ کے بانی کے والد صاحب نے شرکت نہیں کی یہ ہے اعتراض جماعت احمدیہ پر اور کہتے ہیں کہ اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے۔۔۔۔۔بغاوت 1857ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی وفساد وعناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا۔“ اشاعۃ السنة النبویہ جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحه ۲۸۸) سرسید احمد خان صاحب نے تو اسباب بغاوت ہند میں اس مفسدہ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ ایک لمبی کہانی ہے خلاصہ یہ ہے کہ سرسید احمد خان صاحب نے اسے بغاوت قرار دیا بلکہ حرام زدگی کہا ( تفصیل کے لئے دیکھیں رسالہ اسباب بغاوت ہند مولفہ سرسید احمد خان کراچی۔اردواکیڈمی سندھ 1957ء) یہ عجیب ظلم ہے اور اسلام کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ اور پھر یہ کہ خدا کا کچھ خوف نہیں کرتے کہ جس چیز کو ان کے آباء واجداد حرامزدگی تک کہہ رہے ہیں اس کو آج اسلامی جہاد کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے نعوذ باللہ من ذلک۔یہ قرآن کریم اور اسلام کے تصور جہاد پر بہتان عظیم ہے اور حد ہے کہ انہیں کوئی حیا نہیں آتی کہ وہ اسلامی جہاد کے ساتھ اس حرام زدگی کو صرف اس لئے ملا رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کا موقع ملے۔ایک اور اعتراض جو پہلے بھی اٹھایا گیا ہے اور جس کے ایک حصہ کا جواب بھی پہلے دیا جاچکا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دمشق کے منار پر نزول سے تعلق رکھتا ہے۔اس سے پہلے میں نے اس کے اس حصہ کا جواب دیا تھا جس میں یہ ذکر تھا کہ مسیح دوز رد چادروں میں لپٹا ہوا آئے گا اور انہوں نے اعتراض کیا تھا کہ یہ کیسی غلط ، بے معنی اور لغوتا ویل ہے کہ زرد چادروں سے مراد بیماریاں ہیں۔چنانچہ میں نے بیان کیا کہ اگر زرد چادروں کے بارہ میں کوئی تاویل تمہیں پسند نہیں تو پھر حدیث کے الفاظ کے ظاہری معنی تسلیم کرو اور یہ مت بھولو کہ ظاہری طور پر زرد کپڑوں سے