خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد۴ 325 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء رہے ہیں اور جس کے متعلق بار بار ببانگ دہل یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اسلام کی خاطر ایک جہاد ہو رہا تھا اور وہ مسلمانوں کے مفاد میں تھا اس کے متعلق ان کے آباء واجداد کا قصہ یہ ہے کہتے ہیں کہ : اپنی سرکار کے مخالف باغیوں کے سامنے سے بھاگنے یا ہٹ جانے والا نہ تھا اس لئے اٹل پہاڑ کی طرح پیر جما کر ڈٹ گیا اور سر کار پر جاں شاری کے لئے طیار ہو گیا۔اللہ رے شجاعت و جوانمردی کہ جس ہولناک منظر سے شیر کا پتہ پانی اور بہادر سے بہادر کا زہرہ آب ہو جائے وہاں چند فقیر ہاتھوں میں تلوار میں لئے جم غفیر بندوقچیوں کے سامنے ایسے جمے رہے گویاز میں نے پاؤں پکڑ لئے ہیں چنا نچہ آپ پر فیریں ہوئیں اور حضرت حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ زیر ناف گولی کھا کر شہید ہوگئے۔“ (تذکرۃ الرشید۔میرٹھ حصہ اول صفحہ ۴ نے ۷۵) یہ ہے ان کا جہاد جسے اپنے منہ سے تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کا جہاد تھا اور آج جو جماعت احمدیہ پر بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے ہیں ان کے آباء واجدا داس جہاد میں یہ کچھ کر رہے تھے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے وہ کوئی جہاد نہیں تھا۔اس وقت کے خدا ترس اور چوٹی کے علماء مسلمانوں کو متنبہ کر رہے تھے کہ یہ فتنہ وفساد ہے اس میں ملوث نہ ہوں یہ تمہارے مفادات کے خلاف ہے۔چنانچہ دہلی کے نامور عالم مولانا میر محبوب علی صاحب کے بارہ میں ارواح ثلاثہ “ جو مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے حاشیہ اور آپ کے نوٹس کے ساتھ شائع ہوئی، میں لکھا ہے: غدر میں بہت علماء مخالف تھے اور کہتے تھے کہ یہ جہاد نہیں ہے۔انہی میں میر محبوب علی صاحب بھی تھے اور آپ وعظ ونصیحت کے ذریعے لوگوں کو غدر سے روکتے تھے۔( ارواح ثلاثہ مع حواشی و ملاحظات الشیخ اشرف علی تھانوی حکایت نمبر ۴۶۶) اور آج جو اسے جہاد قرار دے رہے ہیں ان کے اپنے فرقہ کے چوٹی کے بزرگ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس جہاد کے متعلق لکھا: