خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد ۴ 317 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۸۵ء کی وجہ سے بڑے بڑے پھوڑے نکل آئے اور جسم میں سخت کھجلی شروع ہو گئی۔ پہلے آپ نے ناخنوں سے کھجلانا شروع کیا حتی کہ وہ گر گئے پھر سخت ٹاٹ لے کر کھجلایا کرتے یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے پھر ٹھیکریوں اور سخت پتھروں کو استعمال کرتے رہے مگر کھجلی میں کمی نہ آئی حتی کہ آپ کا تمام بدن کٹ گیا اور بد بودار ہو گیا جس کی وجہ سے گاؤں والوں نے آپ کو نکال باہر کیا اور ایک روڑی پر ڈال دیا اور سے قطع تعلق کر لیا ۔ ایک چھت بنادی اور سوائے آپ کی بیو اور سوائے آپ کی بیوی رحمت بن رحمت بنت افرائیم کے سب نے آپ سے قط سے پس جن لوگوں کے خدا کے نبیوں کی نبوتوں کے بارہ میں یہ تصورات ہوں اور اللہ تعالیٰ کے پاک نبیوں پر ایسے گندے حملے کرنے سے باز نہ آئیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نا پاک حملے کر دیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ا حقیقت یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں جماعت احمد یہ کے لئے حمد اور اطمینان کا ایک صلى الله د علیه پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد تک دنیا حضرت اقدس محمد پر گندے حملے کیا کرتی تھی ایسے میں قادیان سے ایک پہلوان اٹھا وہ حضرت محمد مصطفی اللہ کے عشق صلى الله میں دیوانہ تھا اس نے آنحضور ﷺ پر ہونے والے حملوں کا اس شدت سے دفاع کیا اور دشمنان اسلام پر ایسے سخت حملے کئے کہ دشمنوں کی توجہ آپ کی طرف سے ہٹ گئی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تیر جو صلى الله ارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر چلا کرتے تھے وہ مسیح موعود نے اپنے سینے پر لے صلى الله عروسه لئے اور اس وقت سے آج تک تما تک تمام دشمنان اسلام نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق خاموشی صلى الله صلى الله اختیار کر رکھی ہے اور سب کی توجہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام کی طرف ہو گئی ہے۔ یہ علی شان ہے جماعت احمدیہ کی قربانی کی اور یہ عظمت ہے مسیح موعود کے دعاوی کی سچائی کی۔ پس ان حملوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر رحمت اور درود کے گلدستے دیکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب صدیوں کی تاریکیاں حضرت محمد مصطفی ﷺ پر حملے کر رہی تھیں ، وہ تیر جو ہمارے آقا و مولیٰ سید ولد آدم کی ذات اقدس کی طرف چلائے جاتے تھے، وہ گند جو آپ پر اچھالا جاتا تھا خدا کی قسم خدا کی تقدیر ان چیزوں کو پھولوں اور رحمتوں اور درود اور صلوٰۃ میں تبدیل فرما دیا کرتی تھی۔ جتنی گالیاں خدا کے نام پر آپ کو دی گئیں اس سے لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ رحمتیں آسمان سے آپ پر نازل ہوتی رہیں پس مبارک ہو تمہیں جو اس مجاہد اعظم کی غلامی کا دم بھرتے ہو جس نے