خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد۴ 318 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۸۵ء حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کئے جانے والے سارے حملوں کو اپنی چھاتی پر لے لیا اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی کہ اس کے نتیجہ میں آپ کی ذات پر کیا گزرتی ہے۔رہی زرد چادروں کی بات تو اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تعبیر طلب ہے یعنی حضرت رسول اکرم ﷺ نے جو فرمایا ہے کہ آنے والا مسیح دوز رد چادروں میں لپٹا ہوا آسمان سے نازل ہوگا تو اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ پہلے سے ہی ہو چکا ہے اور وہ یہ کہ دو ہی صورتیں ہیں یا تو اس کشف یا پیشگوئی کی تعبیر کی جائے اور یا پھر اسے ظاہر پر محمول کیا جائے۔اگر ظاہر پر محمول کیا جائے تو پھر اس آنے والے نبی کی کیا شکل بنے گی۔اس کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا فیصلہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں اور اگر ظاہر پر محمول نہ کیا جائے بلکہ اس میں ایک عارفانہ پیغام ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو پھر امت محمدیہ کے بزرگ پہلے سے ہی لکھ چکے ہیں : والصفرة من الثياب كلها مرض و ضعف لصاحب الثوب الذي ينسب ذلك الثوب اليه تعطیر الانام بعد الغني النابلسی ج ا صفحه ۱۰۳ الباب التاسع والعشرون في الكساوى واختلاف الوانها وأجناسها ) اگر خواب میں یا کشفی نظارے میں کسی کو زرد کپڑوں میں ملبوس دیکھو گے تو اس سے مراد بیماری ہوتی ہے۔پس جہاں تک تو اس پیغام کے عرفان کا تعلق ہے اس کے سوا اس کا ترجمہ ہو نہیں سکتا کہ زرد کپڑوں سے مراد بیماری ہے لیکن جو لوگ ظاہر پرست ہوتے ہیں اگر انہوں نے ضرور اس کو ظاہر پر محمول کرنا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آنے والے مسیح کو واقعہ جو گیوں کی طرح زرد کپڑوں میں ملبوس دیکھنا ہے تو اس کے متعلق حضرت محمد مصطفی علیہ کا اپنا فتوئی سن لیجئے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص یہ روایت کرتے ہیں: راى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ثوبين معصفر ين فقال ان هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها۔( صحیح مسلم کتاب اللباس والزمینه ) یعنی ایک شخص کو آنحضرت ﷺ نے زرد کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو آپ نے فرمایا ہرگز ایسا