خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 313
خطبات طاہر جلدم 313 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۸۵ء اپنی جوانی کے زمانہ میں مرزا صاحب صرع اور اعصابی دوروں کی بیماریوں میں مبتلا ر ہے۔کبھی کبھی وہ ہسٹیریا کے حملوں کی وجہ سے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔انہیں ذیا بیطس کا مرض بھی تھا۔یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنی دو بیماریاں یعنی مراق اور ذیا بیطیس کو اپنے حق میں دلیل بنا کر گھڑ لیا۔انہوں نے لکھا: ”دیکھو میری بیماری کے متعلق بھی آنحضور ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوز رد چادر میں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی“۔( تشحیذ الاذہان جون ۱۹۰۶ ء صفحه ۵) یہ دو قسم کے مختلف اعتراضات ہیں۔وہ لوگ جو مذہبی تاریخ کا کچھ علم رکھتے ہیں اور خصوصاً مستشرقین یورپ کے لٹریچر سے واقف ہیں۔ان کے ذہنوں میں ایک گھنٹی سی بجی ہوگی کہ ہم نے یہ باتیں تو پہلے بھی سن رکھی ہیں، ایسے ہی الفاظ ایسے ہی بودے اور لچر حملے تو پہلے بھی ہوتے آئے ہیں۔لیکن وہ حملے کیسے تھے اور کس نے کئے تھے اور اعتراض کی یہ ادا ئیں ان لوگوں نے کس سے سیکھیں اس کے متعلق گھر کے بھیدی سے بڑھ کر اور کون رہنمائی کرسکتا ہے۔چنانچہ میں اخبار اہل حدیث ۱۲۴ مارچ ۱۹۱۱ صفحہ۲ کالم ۲ کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جہاں چور پکڑا جاتا ہے۔یہ حضرت خلیفة أمسیح الاول کے زمانے کی بات ہے۔اخبار مذکور میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی طرف سے پھیلنج دیا گیا تھا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ہمارا حق ہے یا نہیں کہ ہم آپ ( یعنی مرزا صاحب علیہ السلام) کے مشن پر وہ سوالات کریں جو آپ کے رسول کی رسالت کے منافی ہوں جس طرح عیسائی اور آریہ وغیرہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر اعتراض کرتے ہیں۔اب دیکھیں رنگ بھی سیکھے تو کس سے سیکھے، مخالفت کے ڈھنگ بھی اختیار کئے تو کس کے۔یہ لوگ سیکھتے ہیں تو آریوں اور عیسائیوں سے ، ان ناپاک حملوں کے طریق سیکھتے ہیں جو