خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 307
خطبات طاہر جلدم 307 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۸۵ء صلى الله جہاں تک حضرت مسیح علیہ السلام پر فضیلت کا ذکر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی حکمت بھی خود بیان فرمائی ہے اور وہ حکمت اس نوع کی ہے کہ آج بھی کوئی باشعور انسان جو اسلام پر ایمان رکھتا ہو اور حضرت اقدس محمد مصطفی امی نے کی فضیلت پر ایمان رکھتا ہو اس حکمت پر ایمان کو گنوائے بغیر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔چنانچہ جو دلیل آپ نے قائم فرمائی وہ یہ ہے: اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔۔۔۔اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کے لئے ہے مگر حضرت عیسی“ صرف توریت کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے۔اسی وجہ سے انجیل میں ان کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں جو توریت میں مخفی اور مستور تھیں لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی امر زائد بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے اور وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۵) جہاں تک دیگر دعاوی کا تعلق ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور یہ اقتباس میں الشیخ داؤد بن محمود القیصر کی کی شرح فصوص الحکم سے لے رہا ہوں اس کے مقدمہ میں حضرت علی کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: انا نقطة باء بسم الله انا جنب الله الذي فرطتم فيه وانا القلم، وانا اللوح المحفوظ، وانا العرش، وانا الكرسي، وانا السموات السبع، والارضون “ ( شرح فصوص الحکم محمد داؤ د قصری رومی صفحه ۱۱۸) کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ دعویٰ فرمایا کہ میں بسم اللہ کی باء کا نقطہ ہوں میں خدا کا وہ پہلو ہوں جس کے متعلق تم نے کوتاہی سے کام لیا، میں قلم ہوں ، میں لوح محفوظ ہوں ، میں عرش