خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد۴ 305 خطبه جمعه ۵ ر ا پریل ۱۹۸۵ء (البقرۃ: ۲۵۴) یہی وہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زمرہ انبیاء میں شامل ہیں تو ان دونوں آیات میں ان دونوں اعتراضات کا جواب موجود ہے۔وحی کے لحاظ سے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا۔ہر رسول پر پاک وحی خدا کی طرف سے اترتی ہے وہی وہی جو اس سے پہلے رسولوں کی طرف اتری تھی یا آئندہ رسولوں کی طرف اترنی تھی ، خدا کے پاک کلام میں اس کی شان اور اس کی شوکت اور اس کی صحت اور اس کی سچائی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔جہاں تک مراتب کا تعلق ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے جس کو چاہے بلند مرتبہ عطا فرمائے جس کو چاہے کم مرتبہ عطا فرمائے چنانچہ بعض انبیاء کو دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو دعویٰ تھا اس دعوی کے اعتبار سے آپ کو یہ دعویٰ بھی زیب دیتا ہے یا نہیں کہ آپ کو گزشتہ بعض انبیاء پر فضیلت ہے؟ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کا تعلق ہے آپ نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا اور مہدی اور مسیح کے متعلق امت کے گزشتہ بزرگوں نے ، اولیاء اللہ نے اور مجددین وقت نے بڑے کھلے لفظوں میں اس بات کا اعلان فرمایا کہ اس کا مقام امت محمدیہ میں کسی عام انسان کا سا مقام نہیں ہوگا بلکہ بعضوں نے تو واضح طور پر یہ لکھا کہ وہ گزشتہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہوگا۔لیکن امام مہدی اور مسیح کا ذکر اگر چھوڑ بھی دیں تو تب بھی امت میں ایسے بزرگ پیدا ہوئے جو نہ امام مہدی ہونے کے دعویدار تھے نہ مسیح ہونے کے۔لیکن انہوں نے ایسے ہی دعوے خود اپنی ذات کے متعلق کئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔چنانچہ جہاں تک وحی کا تعلق ہے امت محمدیہ میں وحی کا ذکر بھی اسی طرح ملتا ہے جس طرح مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی میں ملتا ہے اور جہاں تک گزشتہ لوگوں پر فضیلت کا اور باقی بنی نوع انسان پر فضیلت کا تعلق ہے یہ دعاوی بھی امت محمدیہ میں ایک سے زائد جگہ پر نظر آتے ہیں وحی کے لحاظ سے میں دو مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں : حضرت محی الدین ابن عربی نہ صرف وحی کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ مجھے معراج ہوا اور اس میں مجھے پر یہ آیت نازل ہوئی: قل امنا بالله وما انزل علينا وما انزل على ابراهيم واسمعيل