خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 299
خطبات طاہر جلدم 299 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء وہ روپیہ دینے کے بعد وفات کس حال میں ہوئی اس کے بارہ میں ہماری پھوپھی جان حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ مرحومہ فرماتی ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے وقت ہماری اماں جان نے ہمیں بلایا اور فرمایا۔بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔(سیرت المہدی۔روایات نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) پس اس زمانہ کے لوگ جو خود عیاشیوں میں مبتلا ہیں، جو پیسے کی خاطر ایمان بیچ رہے ہیں۔جو روٹی کی خاطر جھوٹ اور افترا سے باز نہیں آتے ، جو جھوٹ کے بدلے خدا کی آیات بیچ کر دولتیں سمیٹ رہے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ نعوذبالله من ذالک آپ نے آخری زمانہ عیش و عشرت میں بسر کیا اور یہ دعوی کر کے کہ میں مجدد ہوں دولت کی ریل پیل ہو گئی تھی۔اگر مجددیت کے دعوی کے نتیجہ میں یہ سلوک ہوتا تو ہر جھوٹا، ہر بدکردار مجدد بن جایا کرتا۔اس صورت میں تم لوگ بھی مخالفوں میں شمار نہ ہوتے بلکہ صف اول کے مجددین ہوتے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کے ساتھ تو بالکل اور سلوک ہوا کرتا ہے۔ان پر تو بہت ظلم ہوتے ہیں، ان کی جائیدادیں غصب کر لی جاتی ہیں ، ان کے مال چھین لئے جاتے ہیں، ان کے ماننے والوں کے مال لوٹ لئے جاتے ہیں، ان کی دکانیں تباہ کر دی جاتی ہیں، ان کے کاروبار برباد کر دیئے جاتے ہیں، ان کی ساری عمر کی کمائیوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے جلا دیا جاتا ہے۔پس جب سچے دعویٰ کرتے ہیں تو ان سے یہ سلوک ہوا کرتا ہے لیکن جھوٹوں کے ساتھ یہ معاملات نہیں ہوا کرتے۔آج تک تو ہم یہی سنت دیکھتے چلے آرہے ہیں۔تم کس منہ سے کہہ سکتے ہو کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ قدیمی سنت کے برعکس سلوک ہوا ہے۔حقیقت تو یہی ہے کہ جب سے آدم پیدا ہوئے اس وقت سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک دنیا نے صرف ایک ہی نظارہ دیکھا ہے کہ وہ جو سب سے زیادہ ہر دل عزیز ہوا کرتا تھا جسے