خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 295

خطبات طاہر جلد ۴ 295 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء طرح ہو گئی۔ یہ تو ایک معمولی سا نقشہ ہے اس زمانہ کی جو تفصیلات بائکیل میں ملتی ہیں اگر آپ انہیں پڑھیں تو حیران رہ جائیں ۔ بائیبل کو چھوڑیئے قرآن کریم میں حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان کی سلطنت کے زمانہ کے جو واقعات مختصر درج ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی سلطنت تھی گویا پھر اس کے بعد کبھی بھی ایسی سلطنت نہ دیکھی جائے گی ۔ پس اپنے اس تمام شاہانہ تزک واحتشام کے باوجود یہ سچے نبی تھے اور اپنے دین کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے۔ لیکن اگر ان کی یہ بات سچی ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کے بعد بہت کمائی کی ( جو کہ بالکل جھوٹی بات ہے ) اور اس کمائی کے نتیجہ میں لکھ پتی شمار ہونے لگے اور ان کے مریدوں نے بھی آپ پر دل آزاری اور بیزاری کا اظہار کیا یہ اتنا بڑا جھوٹ اور ایسا بڑا افتراء ہے کہ اس پر تعجب ہوتا ہے کہ احمدیت کی مخالفت میں کس طرح دل خوف خدا سے خالی ہو گئے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مرید کیا کہتے تھے اور انہوں نے آپ کو دعویٰ نبوت کے بعد کس حال میں دیکھا وہ سنئے : ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی آئے ہوئے تھے جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔ ایک شخص نبی بخش نمبر دار ساکن بٹالہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر سے لحاف منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔ عشاء کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں حام حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ لئے بیٹھے تھے اور ایک صاحب زادہ جو غالبا خلیفہ المسیح الثانی تھے پاس لیٹے تھے اور ایک شتری چوغہ انہیں اوڑھا رکھا تھا اس پر انہیں معلوم ہوا کہ آپ نے اپنا لحاف بھی طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا تھا۔ یہ تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شاہانہ بود و باش جس پر ان کو اعتراض ہے کہ نعوذ بالله من ذالک آپ نے عیش و عشرت میں وقت گزارا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ: میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے ہمارا کیا ہے رات گزر ہی جائے گی۔ نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبر دار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم