خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد ۴ 294 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء اعزاز ہوتا تھا اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ دولت سے کھیلتے رہے ان کا معیار زندگی کا اتنا بلند ہو گیا کہ خودان کے پیروکار اس پر نکتہ چینی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگے۔ ۔ ( قادیانیت، اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ نمبر ۱۱) ایک طرف تو یہ اعتراض ہے اور دوسری طرف ایسے انبیاء کو انبیاء تسلیم کرتے ہیں جن کے رہن سہن اور بود و باش کا یہ منظر ہے کہ حضرت سیلمان کے متعلق لکھا ہے کہ زروجواہر اور مال و دولت کی افراط اور فراوانی کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کی شان و شوکت اور تزک واحتشام کی مثال اس سے پہلے کی تاریخ سے نہیں ملتی اس کا کچھ اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آپ نے دوسوڈھالیں اور تین سوسپریں خالص سونے کی بنوائی تھیں ۔ یہ تو ایک مصنف کی بات ہے بائبل کے اصل حوالوں سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ تو حیرت انگیز ہے۔ ۱۔ سلاطین باب نمبر ۱۰ میں لکھا ہے کہ: تھی۔ چاندی کا ایک بھی نہ تھا سلیمان کے ایام میں اس کی کچھ قدر نہ یعنی آپ کا جو سامان برتن وغیرہ تھے ان میں سے کوئی بھی چاندی کا نہ تھا۔ سارے سونے کے تھے چاندی کی قدر نہیں رہی تھی ۔ پھر لکھا ہے : آپ کا تخت ہاتھی دانت کا تھا اور اس پر نہایت اعلیٰ قسم کا خالص سونا منڈھا ہوا تھا اس تخت کی چھ سیڑھیاں تھیں اور تخت کے اوپر کا حصہ پیچھے سے گول تھا پشت کے پاس دو شیر کھڑے تھے اور ان چھ سیڑھیوں کے دونوں طرف بارہ شیر کھڑے تھے تخت کا پائیدان خالص سونے کا تھا اتنا شاندار تخت اس زمانہ میں کہیں موجود نہیں تھا۔ پھر لکھتے ہیں : بادشاہ نے یروشلم میں افراط کی وجہ سے چاندی کو تو ایسا کر دیا جیسے پتھر“۔ (۱۔ سلاطین ۱۸:۱۰_۲۸) یعنی سونا اتنا زیادہ تھا اتنی دولت تھی اتنی جاہ وحشم تھی کہ چاندی تو گویا پتھروں اور کنکریوں کی