خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 293
خطبات طاہر جلدم 293 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء اور بڑی خستہ حالی سے بسر کیں وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں بھی توقع نہ تھی کہ وہ دس روپے مہینہ بھی کماسکیں کیونکہ ان کے پاس سرمایہ نہ ہونے کے برابر تھا“۔( قادیانیت، اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ نمبر۱۱) ایسی غلط بیانی کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہ لکھتے ہیں کہ مجھے جائیداد کی کوئی پرواہ نہیں تھی مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ ہے کہاں میں تو خدا کو یاد کرتا تھا اور دین کی تعلیم میں مگن رہتا تھا۔آپ یا تو مسجد میں ملا کرتے تھے یا فقیروں میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور اپنا کھانا بھی غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے جب کہ معاندین ایک ایسا منظر پیش کر رہے ہیں کہ جیسے کوئی شخص کسی منڈی میں بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سرمایہ نہیں وہ بمشکل دس روپے کما سکتا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی زندگی کا ساری دنیا کو پتہ ہے اور ان کے اپنے مولوی جو شدید ترین مخالف ہوئے وہ آپ کے حق میں گواہیاں دینے والے ہیں ،سکھ گواہیاں دینے والے ہیں، عیسائی گواہیاں دینے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بچپن کی عجیب کیفیت تھی۔امارت ہوتے ہوئے غربت قبول کر لی۔دستر خوان بچھے ہوئے چھوڑ کر اپنے حصہ کی روٹی لے کر باہر نکل جایا کرتے تھے اور غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔بعض دفعہ فاقے کیا کرتے تھے اور بعض دفعہ پیسے دو پیسے کے چنے لے کر کھا لیا کرتے تھے لیکن ان مخالفین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طرز عمل اسلام کے لئے ایک بہت ہی سنگین خطرہ نظر آیا اور انہوں نے یہ کہا کہ سارے عالم اسلام کو بیدار ہو جانا چاہئے اتنا بڑا خطرہ کہ ایک شخص اپنے گھر کی روٹی اپنی ذات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے کسی غریب پر خرچ کر رہا ہے۔اس کے بعد جوا گلا اعتراض کیا ہے وہ بھی افتراء کا ایک کمال ہے کہتے ہیں کہ: ” جیسے ہی انہوں نے دعوے ( مجدد، محدث اور نبوت کے ) شروع کئے ان کے پاس نذارنوں وغیرہ کی ریل پیل شروع ہوگی اور عمر کے آخری سالوں تک تو ان کی کمائی میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔چنانچہ ۱۹۰۷ء تک ان کی کمائی ڈھائی لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب کسی کا لکھ پتی ہونا بہت