خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 23

خطبات طاہر جلدم 23 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء جائے گا۔یہ واقعہ ایک انوکھا واقعہ ہے جو اس سے پہلے کبھی رونما نہیں ہوا اور بڑے ہی بدنصیب وہ لوگ ہیں جن کا تاریخ میں نام کلمہ مثانے والوں کے طور پر لکھا جائے گا۔اس سے پہلے بھی کلمہ مٹانے والے گزرے تھے لیکن ان میں یہ اخلاقی جرات ضرور تھی کہ وہ کہتے تھے کہ ہم کلمہ کے دشمن ہیں اور کلمہ مٹانا ہمارا مقصود زندگی ہے۔لیکن اس قسم کی منافق قوم پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی کہ کلمہ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے کلمہ کو مٹانا اپنی زندگی کا شعار بنالے کلمہ کے نام پر ایک ملک قائم کیا گیا ہو۔کلمہ کا واسطہ دے کر لوگوں سے ووٹ مانگے جا رہے ہوں اور کلمہ کومٹانا اپنی زندگی کا شعار بنالیا گیا ہو۔یہ واقعہ اسلام کی تاریخ کا ایک ایسا منفرد اور ایسا مکروہ واقعہ ہے کہ آپ چاروں طرف نظر دوڑا کے دیکھیں آپ کو کہیں اس قسم کے واقعہ کا شائبہ بھی نظر نہیں آئے گا۔ان امور پر نگاہ کر کے بسا اوقات بعض احمدی یہ سوچتے ہیں اور طبعا ان کی یہ سوچ جائز معلوم ہوتی ہے کہ ان دو باتوں میں اتنا تضاد ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک انسان واقعۂ مومن ہو خدا پر اور اسلام پر ایمان رکھتا ہو اور ایسی مکروہ حرکات کرنے کا تصور بھی کر سکے اس لئے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ سارے لوگ کلیہ یقینی طور پر دہر یہ ہیں اور محض ایک فریب کاری ہے۔اسلام کا نام اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔نہ اسلام سے ان کا تعلق ہے نہ خدا سے تعلق ہے لیکن اتنا بڑا الزام دھرنا کسی کی ذات پر یا کسی گروہ پر کہ وہ دل سے اس بات کا کلیہ منکر ہے جس کا ادعا کر رہا ہے یہ جرات اختیار کرنے کی بھی اسلام اجازت نہیں دیتا۔نہ ہم اپنے لئے یہ پسند کرتے ہیں نہ کسی اور کے لئے یہ پسند کرتے ہیں کہ جو وہ دعوی کرتے ہیں اسکے برعکس کوئی دعوئی ان کی طرف منسوب کریں۔اگر چہ عقل کے لحاظ سے بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہو کہ ایسے لوگ اپنے دعوی میں یقیناً جھوٹے ہوں گے کیونکہ خدا کی ہستی پر ایمان لانے والے ایسا متضا د طریق اختیار نہیں کر سکتے۔ناممکن ہے کہ کلمہ کی محبت کا بھی دعویٰ ہواور کلمہ مٹانا اپنی زندگی کے عزائم میں داخل کر لیا گیا ہو۔ان باتوں پر غور کرتے ہوئے قرآن کریم کی ایک آیت پر میری نظر پڑی تو یہ مسئلہ حل ہوا اور یہ وہی آیت ہے جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَاهُ حَسَنًا کہ دنیا میں بعض ایسے بھی بیوقوف ہوتے ہیں جو نہایت مکر وہ کام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اُن کو حسین دکھائی دیتا ہے۔ان کا ہر براعمل زینت دیا جاتا ہے، خوبصورت بنادیا