خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 292
خطبات طاہر جلدم 292 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء بیٹھا ہوتا تھا تو اس سے صاف پتہ چلا کہ نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ تھے۔اس تقریر کا اگلا حصہ انہوں نے پیش نہیں کیا۔حضرت مصلح موعود تو اس تقریر میں یہ بیان فرما رہے ہیں کہ اسی طرح خاندان کا ایک شخص تھا جو راستے میں بیٹھا ہوتا تھا اور لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتا تھا لیکن کوئی اس کی نہیں سنتا تھا۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ اسی طرح بیٹھا وہ یہ باتیں کر رہا تھا کہ دو زمیندار سادہ سے آدمی قادیان آرہے تھے ان میں سے ایک کو روک کر اس نے یہ باتیں شروع کیں اور چونکہ شکل سے وہ اچھا خاصہ کوئی شریف انسان معلوم ہوتا تھا انہوں نے بڑی توجہ سے بات سنی۔جب وہ باتیں سن چکا تو اس نے آگے بڑھ کر چھا مارلیا یعنی اسے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا اور اپنے ساتھی کو آواز دے کر بلایا کہ دوڑ کر آؤ اور پھر اس نے کہا کہ دیکھو ہم سنا کرتے تھے کہ انبیاء کے رستہ میں شیطان بھیس بدل کر بیٹھا کرتے ہیں یہ وہ شیطان ہے۔آج خدا کی بات پوری ہوگئی جو ہم نے سنا تھا کہ ہر نیکی کے رستہ پر شیطان بیٹھا ہوتا ہے، تم نے کبھی دیکھا نہیں تھا آکر اس کا منہ دیکھ لو۔یہ ہے واقعہ جس میں سے ایک حصہ تو ڑ کر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت مصلح موعود واقعہ اسے بڑا بزرگ انسان سمجھتے تھے اور یہ اس کی گواہی پیش کر رہے ہیں کہ وہ خاندان کا آدمی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کیا کرتا تھا۔تو سارے خاندان میں سے ان معاندین کو دو شخص ہی ملے ہیں ایک مرزا امام دین چور اور دوسرا یہ شیطان اور ان کی گواہیاں پیش کر کے وہ خوش ہور ہے ہیں حالانکہ ان سے بہت بڑے بڑے شیطان پہلے گزر چکے ہیں بلکہ انبیاء کے وقت میں اور انبیاء کے رشتہ داروں میں سے گزرچکے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ انسان دشمنی میں اندھا ہو جاتا ہے اور اسے یہ خیال ہی نہیں آتا کہ میں کیا باتیں کر رہا ہوں اور اس سے پہلے کیا کچھ گزر چکا ہے۔انبیاء کے نزد یکی رشتہ داروں کی مخالفتوں کے بہت سے حوالے ہیں لیکن سر دست میں انہیں چھوڑتا ہوں اور اس وقت ان کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ایک اور بڑا زبردست اعتراض انہوں نے یہ کیا ہے کہ پہلا زمانہ تو غربت کا تھا روٹی بھی ٹھیک طرح میسر نہیں آتی تھی، سرمایہ نہیں تھا، پیسے ہی نہیں تھے اس لئے کمائی نہیں ہوتی تھی چنانچہ وہ اس سرکاری رسالہ میں لکھتے ہیں: ”مرزا صاحب نے اپنی زندگی کی ابتدائی دہائیاں نہایت فقر وفاقہ