خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 290

خطبات طاہر جلدم 290 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء Indians, the various foreign invaders or governing Muslims class Turks, Afghans Pathans and Moghals eventually became so mixed that were indifferently termed Moghal"۔( مطبوعہ ٹی فشر آن ون لمٹیڈ۔لندن۔پندرھواں ایڈیشن ۱۹۲۶ء صفحہ ۱۹۷ حاشیہ) ترجمہ یہ ہے کہ : مغل ہندوستان کے کالے باشندوں کو ایشیا کے دوسرے باشندوں میں ممیز کرنے کے لئے بولا جاتا تھا مختلف حملہ آور حکمران مسلمان، ترک، افغان ، پٹھان اور مغل کچھ اس طرح مل جل گئے کہ سب کو بلا امتیاز مغل کے نام سے پکارا جانے لگا ہر گورے شریف آدمی کو مغل کہا جاتا تھا۔پس یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔اول تو یہ بھی ایک بے معنی اور بے حیثیت اعتراض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغل تھے یا نہیں۔آپ تو فرماتے ہیں کہ ہمیں مغل کہا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ حقیقت حال کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ تاریخ کی بات غلط ہی ہو کیونکہ اس میں غلطی کے امکان ہیں بلکہ تاریخ دان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی اس میں غلطی کے امکانات موجود ہیں مگر جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل فارس ہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی شک ہی باقی نہیں رہتا کہ آپ واقعی فارسی الاصل ہیں۔ایک اور بڑا بھاری اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ: ان کے بعض قریبی عزیز ان کے سخت مخالف تھے ان میں ایک مرزا شیر علی صاحب تھے جو رشتے میں ان کے سالے تھے اور ان کے بیٹے مرزا فضل احمد کے خسر بھی۔بڑے وجیہ انسان تھے، سفید براق داڑھی اور تسبیح ہاتھ میں۔بہشتی مقبرہ کے قریب بیٹھے رہتے اور جولوگ مرزا سے ملنے آتے انہیں کچھ اس طرح کے الفاظ میں سمجھایا کرتے ، مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے آخر میں نے کیوں نہ اس کو مان لیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے