خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 289

خطبات طاہر جلدم 289 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء بدلتے رہتے ہیں اور ملکوں کی کوئی ایسی باؤنڈری لائن (Boundry Line) نہیں ہوتی جو ہمیشہ سے ایک جیسی چلی آرہی ہو۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹین کا جلد ۹ بیان کرتا ہے کہ: شہنشاہ ایران فیروز شاہ پور یعنی یہ وہ بادشاہ ہے جو آنحضرت علی سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا اس کے زمانہ میں سمر قند ایرانی سلطنت کی سرحدی ریاست سوگ دیانہ کا دارلخلافہ تھا اور سمر قند سے سرحد کا فاصلہ ایک سو بیس کلو میٹر سے بھی زیادہ تھا اس حد تک ایرانی ریاست آگے بڑھی ہوئی تھی۔پھر انسائیکلو پیڈیا لکھتا ہے ( یہ الفاظ میرے ہیں لیکن یہ ثبوت وہاں قطعی طور پر موجود ہے ) کہ خسرو پرویز کے وقت بھی (یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا جو بادشاہ ہے ) سمرقند ایرانی سلطنت کا حصہ تھا اور پھر کئی سو سال بعد تک یہ شہر ایران کا حصہ رہا۔(انسائیکلو پیڈیا برٹیز کا جلد ۹) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عالم الغیب خدا نے خبر دی تھی جو بالکل سچ ہے اور آپ کے ان بیانات میں کوئی تضاد نہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آباء واجدا دسمر قند سے آئے تھے اور اُس وقت سمر قند اہل فارس کا حصہ تھا اور سمر قند کے باشندے اہل فارس کہلاتے تھے اور جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغل تھے یا نہیں یہ ایک ضمنی بحث بن جاتی ہے کیونکہ جو مغل ہندوستان میں آکر بس گئے وہ ہندوستانی مغل بن جاتے ہیں، جو افغانستان میں جا کر بس گئے وہ افغانی مغل بن جاتے ہیں اس لئے یہ بحث نہیں ہے کہ مغل تھے یا نہیں لیکن اگر اس بحث کو بھی اٹھایا جائے تو اس بارے میں محققین کی گواہی سن لیجئے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مغل بھی کہلا تا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ وہی مغل ہو جو منگول سے آئے تھے۔چنانچہ مسٹر سٹینلے پول شاہان مغلیہ کی تاریخ کی مستند کتاب Medieval India Under Mohammadan Rule میں لکھتے ہیں: "The term Moghal۔۔۔۔۔۔۔came to mean any fairman from Central Asia or Afghanistan as distinguished from the darker native