خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 288

خطبات طاہر جلدم 288 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے“۔کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ نمبر ۱۶ ۱۶۳ حاشیه) پھر فرماتے ہیں: جیسا کہ بظاہر سمجھا گیا ہے یہ خاندان مغلیہ خاندان کے نام سے شہرت رکھتا ہے لیکن خدائے عالم الغیب نے جو دانائے حقیقت حال ہے بار بار اپنی وحی مقدس میں ظاہر فرمایا ہے کہ یہ فارسی خاندان ہے اور مجھ کو ابناء فارس کر کے پکارا ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ نمبر ۸۰ حاشیه ) اب یہ ہے معمہ حکومت پاکستان کے نزدیک اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ جس کے خاندان میں یہ شبہ ہو کہ وہ فارسی الاصل ہے یا مغل ہے یا اس کے آباء واجداد میں سید عورتیں تھیں یا نہیں تھیں وہ اسلام کے لئے سنگین خطرہ ہوتا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں میں کوئی تضاد ہی نہیں یہ محض ان کی کم نہی ہے جو ایسا تضاد دیکھ رہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں باتیں بیک وقت درست ہیں چنانچہ میں نے اس سلسلہ میں جو تحقیق کی ہے اس میں پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جد امجد جن کا آپ نے خود ذکر فرمایا ہے وہ سمرقند سے آئے تھے اور سمر قند موجودہ دور میں ایران میں شامل نہیں ہے اور مشکل یہ تھی کہ اگر سمر قند سے آئے تھے اور یہ روایت بھی یقینی ہے اور پھر مغل بھی کہلاتے ہیں تو اہل فارس کس طرح ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما خبر دی اور آپ کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی بات قابل یقین نہیں تھی۔چنانچہ آپ نے موجودہ جغرافیہ کو درست سمجھتے ہوئے ایک طرف تو یہ بھی اقرار کیا کہ ہم سمرقند سے آئے ہیں اور یہ بھی اقرار کیا کہ تاریخ دان ہمیں مغل ہی بتاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ آپ نےکسی غلط بیانی سے کام نہیں لیا اور پھر ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر چہ فارسی الاصل ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی میرے پاس کوئی دلیل ہے لیکن خدا نے ( جو عالم الغیب ) مجھے یہ خبر دی ہے کہ تم فارسی الاصل ہو ( کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ نمبر ۱۶۲ ،۱۶۳ حاشیه ) چنانچہ جب میں نے اس سلسلہ میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ بھی