خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد۴ 287 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء صلى الله بیان کیا کہ ان کا کچھ تعلق سادات ! دات یعنی آنحضور علی کی اولاد سے۔ اور بالآخر انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں از روئے الہام بتایا گیا ہے کہ وہ ایرانی الاصل تھے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ایک نام نہاد کشف کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ثبوت نہیں کہ وہ واقعی ایرانی الاصل ہیں“۔ ( قادیانیت، اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ نمبر ۱۰۰۹) یہ سارا قصہ جو ان لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اس میں بہت سی باتیں قابل ذکر ہیں ۔ اب ان کا باری باری ذکر کرتا ہوں ۔ ایک حصہ اس اعتراض کا یہ ہے کہ غالباً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو ایرانی الاصل اس لئے قرار دیا کہ اپنے آپ کو اس حدیث کا مصداق ٹھہر اسکیں جس میں اشاعت اسلام میں ایرانی مسلمانوں کے کردار کی بہت تعریف کی گئی ہے تحریف کرنے میں یہ بھی ان کا کمال ہے کہ اصل حدیث بیان کرنے کی جرات ہی نہیں ہے۔ اس حدیث میں تو یہ ذکر ہی نہیں کہ ایرانی مسلمان اسلام کی خدمت کریں گے اس میں تو یہ ذکر ہے کہ ایمان اٹھ جائے گا ،ثریا پر چلا جائے گا۔ اس حدیث کی ایک روایت میں رجل یعنی ایک شخص کا ذکر ہے اور ایک دوسری روایت میں رجال کا لفظ آتا ہے لناله رجل اور جال من هولاء ( صحیح بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر ۴۵۱۸) آنحضرت علی نے سورہ جمعہ کی آیت کی تفسیر میں حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان آسمان پر بھی اٹھ گیا ثریا تک بھی چلا گیا تو ان میں سے ایک شخص یا اشخاص ایسے ہوں گے جو اسے دوبارہ زمین پر کھینچ لائیں گے کیونکہ اس حدیث کو بیان کرنے کی جرات نہیں تھی اس لئے آنحضرت ﷺ کے کلام کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے گویا صلى الله علوسه ۔ آپ نے اشاعت اسلام میں ایرانی مسلمانوں کے کردار کی بہت تعریف کی ہے اور اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا مصداق بننا چاہتے تھے۔ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شجرہ نسب کا تعلق ہے آپ فرماتے ہیں: ” ہماری قوم مغل بر لاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل عیال میں سے تھے