خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 286

خطبات طاہر جلدم 286 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی نوکری کا کھلم کھلا ذکر فرمایا ہے۔علاوہ ازیں یہ کہنا ویسے ہی بڑی بے عقلی کی بات ہے کہ نبی نوکری نہیں کر سکتا۔آخر کیوں نہیں کر سکتا ؟ اس کی کوئی دلیل نہیں دیتے، کوئی بنیاد نہیں اور نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ قرآن کریم نے ایک ایسے نبی کا واضح طور پر ذکر کیا ہے جس نے غیر قوم کی نوکری کی اور خود اپنی خواہش سے مال کا شعبہ طلب کیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق اہل حدیث کے ایک عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ: ”ہم قرآن مجید میں یہ پاتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا فر بادشاہ کے ماتحت انتظام سلطنت کرتے تھے۔کسی ایک نبی کا فعل بھی ہمارے ،، لئے اسوہ حسنہ ہے۔(اہل حدیث امرتسر ۱۶ نومبر ۱۹۴۵ء صفحہ نمبر۴) پھر اہل حدیث اپنی اشاعت ۲۵ اکتوبر ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ میں لکھتا ہے: حضرت یوسف علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک کئی رسول اور نبی ایسے ہوئے ہیں جو اپنے زمانہ کی حکومتوں کے ماتحت رہے“۔پھر تعجب ہے کہ وہ انبیاء کیوں اپنے دین کے لئے خطرہ نہیں بن گئے؟ ایک اور اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ کیا گیا ہے کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی اپنا شجرہ نسب وسطی ایشیا کے مغلوں سے ملاتے ہیں اپنی ابتدائی تحریروں کے مطابق وہ مغلوں کی برلاس شاخ سے تعلق رکھتے تھے ( کتاب البریہ دوسرا ایڈیشن ۱۹۳۲ صفحہ نمبر ۱۳۴) بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں الہام کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا شجرہ نسب ایرانیوں سے ملتا ہے یہ دعویٰ غالباً اس لئے کیا گیا کہ رسول پاک میلہ کی اس حدیث کا مصداق خود کو ٹھہرا سکیں جس میں آنحضور ﷺ نے اشاعت اسلام میں ایرانی مسلمانوں کے کردار کی بہت تعریف کی تھی تاہم وہ اپنی زندگی کے آخری مرحلے تک اس امر کا تعین نہ کر سکے کہ وہ کون سے سلسلہ نسب سے تعلق رکھتے ہیں، سب سے پہلے انہوں نے مغل قوم سے تعلق رکھنے کا دعوی کیا پھر کچھ عرصہ بعد انہوں نے