خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 285
خطبات طاہر جلدم 285 خطبہ جمعہ ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء تفسير الخازن الجز الثالث زیر آیت فَقَدْ سَرَقَ اَج لَّهُ مِنْ قَبْلُ تفسیر فتح القدیر اور تفسیر روح المعانی میں بھی اس آیت کے تابع حضرت یوسف علیہ السلام کی فرضی چوری کی جستجو کی گئی ہے۔ان سب مفسرین میں یہ اختلاف ہے کہ کیا چیز چوری کی تھی لیکن ان کا اس پر اتفاق ہے کہ نعوذ بالله من ذالک حضرت یوسف چور تھے اور خدا کے نبی بھی اور باوجود اس چوری کے اقرار کے نہ ان کے دین کو کوئی خطرہ ہوا اور نہ عالم اسلام کو۔اب سنئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی چوری سے متعلق کیا کیا اختلافات ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ سونے کا بت تھا، بعض کہتے ہیں کہ مرغی تھی ، بعض کہتے ہیں نہیں اتنی بڑی چیز نہیں تھی انڈا تھا مرغی نہیں تھی ، بعض کہتے ہیں کہ کھانا چرایا تھا لیکن فقیروں کو دینے کے لئے چرایا تھا۔الغرض یہ لوگ انبیاء کے متعلق ایسی ظالمانہ باتیں تسلیم کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی نبوت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں سمجھتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جھوٹا الزام لگانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔جہاں تک آپ کے کردار کا تعلق ہے۔سیالکوٹ کے زمانہ میں جس کا اس الزام میں ذکر کیا گیا ہے مولوی ظفر علی خان کے والد محترم منشی سراج الدین صاحب کی گواہی سنئے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانہ میں جانتے تھے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے کاروبار ملازمت کے بعد ( یعنی آپ نے سیالکوٹ میں ملازمت کی تھی) ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا عوام سے کم ملتے تھے۔(اخبار زمیندار مئی ۱۹۰۸ء بحوالہ بدر ۲۵ جون ۱۹۰۸ء صفحہ نمبر ۱۳) مولوی محمد حسین بٹالوی کہتے ہیں: مولف براہین احمدیہ مخالف اور موافق کے تجربے اور مشاہدے کی روسے والله حسیبه شریعت محمدیہ علیہ پر قائم پر ہیز گار اور صداقت شعار ہے“۔(اشاعۃ السنۃ جلد نمبر ۹ صفحه ۲۸۴) جہاں تک نبی کے نوکری کرنے کا تعلق ہے اس کے متعلق یہی معترض یعنی دیو بندی اور اہل حدیث خود تسلیم کرتے ہیں اور انہیں ماننا پڑتا ہے کہ نبی کسی غیر نبی کی نوکری کر سکتا ہے کیونکہ قرآن کریم