خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 284

خطبات طاہر جلدم 284 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء اس کے متعلق ہم نے تلاش کیا کہ کہیں کوئی ایسا واقعہ ملتا ہو جس پر انہوں نے اس اعتراض کی بنا کی ہے تو ہمیں سیرۃ المہدی (جلد نمبر صفحہ ۴۳۰ ۴۴ روایت نمبر ۴۹) کی یہ روایت ملی کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دادا کی پنشن لینے سیالکوٹ گئے تو مرزا امام الدین جو آپ کے خاندان ہی کا ایک فرد تھاوہ آپ کے پیچھے پڑ گیا اور آپ سے وہ رقم ہتھیا لی اور وہ بھاگ گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان واپس نہ گئے اور بہتر سمجھا کہ ملازمت کر کے گزارا کر لیا جائے بجائے اس کے کہ نقصان کے بعد گھر والوں کو منہ دکھاؤں۔یہ واقعہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھول پن کا ، آپ کے تقویٰ اور حیا کا۔اور جہاں تک دھوکہ دینے والے کا تعلق ہے وہ دھوکا دینے والا نہ صرف یہ کہ احمدی نہیں تھا بلکہ شدید مخالف تھا، چوری وہ کرتا تھا اور الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ، آخر مخالفین نے ضرور یہ روایت پڑھی ہوگی جس سے یہ خیال گزرا ہوگا کہ اس کو الزام کے طور پر استعمال کیا جائے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ سراسر جھوٹ اور بے بنیادا تہام ہے آپ کے متعلق تو ایک ایسے شخص (جو بعد میں آپ کا شدید مخالف بنا ) کی اپنی گواہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام عمر انتہائی تقویٰ کے ساتھ گزاری لیکن اس سے پہلے میں آپ کو یہ سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے آپ پر چوری کا یہ الزام کیوں لگایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ نبیوں پر بھی چوریوں کے الزام لگانے کے عادی ہیں کجا یہ کہ کسی کو غیر نبی مانتے ہوں یا کسی کو مفتری سمجھتے ہوں اور جس کو مفتری کہیں گے اس پر تو بڑھ بڑھ کر الزام لگا ئیں گے انبیاء کو بھی نہیں چھوڑتے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق جو یہ واقعہ آتا ہے کہ بھائیوں نے بن یا مین کے معاملہ میں کہا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی حضرت یوسف نے بھی چوری کی تھی تو یہاں یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کو ایک جھوٹے الزام کے طور پر پیش کیا ہے نہ یہ کہ اسے تسلیم کیا ہے بلکہ صرف یہ بتانے کے لئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ انبیاء پر جھوٹے الزام لگا کرتے ہیں اور ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔بدقسمتی سے بعض مسلمان مفسرین نے خود اس واقعہ کو تسلیم کر لیا ہے اور پھر با قاعدہ اس چوری کی چھان بین بھی شروع کر دی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا چوری کی ہوگی۔مختلف تفاسیر میں جن میں سے تفسیر جلالین زیر آیت فَقَدْ سَرَقَ أَحْ لَّهُ مِنْ قَبْلُ (يوسف:۷۸)