خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 283

خطبات طاہر جلدم 283 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء ہے کہ مہدی منتظر کی زبان میں بھی لکنت ہوگی اور بعض دفعہ اس کی زبان جب کلام کو بیان کرنے سے پیچھے رہ جائے گی تو وہ اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر مارے گا “۔( تفسیر روح المعانی تفسیر سورة طه : الاية - يفقهوا قولى ) تو اگر امام مہدی نے پیشگوئیوں کے مطابق اس مزعومہ خطرہ کے ساتھ آنا تھا تو پھر اس خطرہ کو قبول کرنا پڑنا تھا۔کیونکہ یہ تو اس کی سچائی کی علامت ہے۔میں ایک بات بتانی بھول گیا کہ اس رسالہ میں جو حوالہ الفضل مورخہ ۴ استمبر ۱۹۳۸ء کا دیا گیا ہے آپ الفضل اٹھا کر دیکھ لیں الف سے یا ء تک اس کا کوئی ذکر ہی موجود نہیں۔گویا سارا حوالہ ہی فرضی ہے۔ظلم کی بھی حد ہوتی ہے عجیب حکومت ہے کہ اتنا فرضی قصہ گھڑا ہے کہ سارے الفضل میں اس مضمون کا کوئی ذکر اذکار ہی موجود نہیں ہے محض دنیا کو دھوکا دینے کے لئے اپنی طرف سے ایک حوالہ وضع کر لیا گیا ہے۔ایک اعتراض یہ ہے کہ: ”مرزا صاحب ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں جونیئر کلرک کی حیثیت سے ملازم ہو گئے جہاں انہیں پندرہ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔بعض اہل قلم نے لکھا ہے کہ مرزا کو گھر کا کچھ مال غبن کرنے کی پاداش میں ان کے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا اور اس وجہ سے انہیں قادیان سے نکلنے اور سیالکوٹ میں معمولی سی ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا تقریباً چار سال انہوں نے یہ ملازمت کی اور ۱۸۸۵ء میں اسے خیر باد کہا۔( قادیانیت،اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ ۱۰،۹) اس اعتراض کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ ہے کہ پندرہ روپے ماہانہ کا ملازم گویا مہین، یعنی بہت ہی معمولی انسان تھا، اسے خدا تعالیٰ کیسے نبی چن سکتا تھا۔وہی فرعون والی بات یہاں دہرائی گئی ہے۔اس اعتراض کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو نبی بننے ہوتے ہیں وہ تو کسی غیر کی نوکری نہیں کیا کرتے۔علاوہ ازیں اس حوالے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک سراسر افتراء یہ کیا گیا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ من ذالک اس زمانہ میں چوری کی تھی جس کی وجہ سے آپ گھر سے نکلے۔