خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد۴ 282 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء اعتراض آج ان کو دہرانا پڑا اور انہوں نے تفاسیر میں بھی لکنت اور زبان کی وقت کے متعلق بہت۔قصے لکھے ہوئے ہیں۔تفسیر روح المعانی تفسیر سورۃ الشعرا میں لکھا ہوا ہے: د گھٹے گھٹے ماحول کی وجہ سے آپ (حضرت موسی ) کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی تھی اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے بعض اوقات فصحاء پر بھی جب غم شدت اختیار کرتے ہیں اور ان کے سینوں میں گھٹن پیدا کرتے ہیں تو ان کی ނ زبانوں میں بھی تر در پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصود کو بیان نہیں کر سکتے۔(ترجمہ) بہر حال کوئی بھی وجہ پیش کی جائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے متعلق فتح القدیر، تفسیر جلالین، تفسیر الخازن کے علاوہ دیگر تفاسیر میں بھی ہر پڑھنے والا شوق سے اس کا مطالعہ کر سکتا ہے۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔اسلام میں بھی ایسے مسلمہ بزرگ ہیں جو عظیم الشان مقام رکھتے ہیں اور ان کے متعلق یہی گواہی پائی جاتی ہے کہ ان کی زبان میں لکنت تھی۔کیا یہ لوگ حضرت بلال کو بھول گئے ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سید نابلال" کہا کرتے تھے اور جب وہ اشهد ان لا اله الا الله کی بجائے اسهد ان لا اله الا اللہ پڑھتے تھے تو صحابہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے تھے۔انہیں غصہ نہیں آتا تھا اور نہ وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اس کے نتیجہ میں اسلام کے لئے سنگین خطرہ قرار دیتے تھے بلکہ وہ شدت غم سے تڑپتے اور بلکتے تھے کیونکہ انہیں یاد آ جاتا تھا کہ حضرت بلال اسی آواز کے ساتھ آنحضرت علیہ کے زمانہ میں بھی اسهد ان لا اله الا اللہ ہی پڑھا کرتے تھے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زبان میں بھی لکنت تھی۔تفسیر روح المعانی زیر تفسیر سورۃ طہ : الابية واحلل عقدة من لسانی پر لکھا ہے کہ: ”حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت تھی جس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حسین نے یہ لکنت اپنے چچا حضرت موسیٰ سے ورثہ میں پائی ہے۔حضرت امام مہدی کے متعلق کیا لکھا ہوا ہے: ”یہ بھی بیان کیا جاتا