خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 281

خطبات طاہر جلدم آج دہرائے جا رہے ہیں۔281 خطبه جمعه ۲۹/ مارچ ۱۹۸۵ء چنا نچہ حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف وائیٹ پیپر کی طرز پر جو رسالہ شائع کیا ہے اس میں ایک اعتراض بالکل وہی ہے جو فرعون نے حضرت موسی پر کیا تھا۔وہ لکھتے ہیں: ”مرزا صاحب عربی الفاظ کے صحیح تلفظ سے قاصر تھے وہ قریب المخرج عربی حروف کو الگ الگ لہجے میں نہ بول سکتے تھے۔مثلاق اورک کو۔بعض اوقات ان کے ملاقاتی ان کی اس کمزوری پر اعتراض کرتے تھے مگر مرزا صاحب اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ سکتے تھے“ ( قادیانیت،اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ۱۲) یہ حوالہ انہوں نے درج کیا ہے اور رسالہ کا عنوان ہے قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان میں لکنت تھی آپ صحیح تلفظ ادا نہیں کر سکتے تھے تو اس سے اسلام کو کیا خطرہ لاحق ہو گیا۔اسلام کو اتنا شدید خطرہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان میں لکنت تھی۔نادانی کی بھی کوئی حد ہے کوئی واقعی خطرہ کی بات ہو تو انسان مانے بھی کہ ہاں یہ عنوان درست ہے۔رسالہ کا عنوان ہے’ قادیانیت ،اسلام کے لئے سنگین خطرہ اور دلیل یہ پیش کی جارہی ہے کہ مرزا صاحب کی زبان میں لکنت تھی۔صحیح طور پر تلفظ ادا نہیں کر سکتے تھے جبکہ ان لوگوں کا اپنا عقیدہ یہ ہے کہ اگر بزرگوں اور انبیاء کی زبان میں لکنت ہو یا وہ غیر فصیح ہوں تو کوئی اعتراض کی بات نہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ لفظ بھی استعمال فرمایا ہے اور ان کی زبان سے اقرار کروایا کہ هُوَ اَفْصَحُ مِنْى (القصص: ۳۵) میں فصیح الکلام نہیں ، ہارون مجھ سے زیادہ فصیح کلام کرسکتا ہے۔اگر واقعی لکنت قابل اعتراض امر ہے تو اللہ تعالیٰ نے کم فصیح کو کیوں چن لیا ، لکنت والے کو کیوں چن لیا۔پس قرآن کریم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے خود غیر فصیح ہونے کا اقرار کروا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ مانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ دین الہی کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے لیکن جب یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل پر بات کرتے ہیں تو چونکہ مقدر یہ ہے کہ دشمن جو باتیں ماضی میں دہراتے رہے، وہی باتیں اب بھی دہراتے رہیں اس لئے فرعون نے جو اعتراض کیا کہ موسیٰ“ غیر فصیح ہے، زبان میں لکنت ہے۔وہی