خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 273

خطبات طاہر جلدم 273 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء میں بالخصوص یہ عیب پایا جاتا ہے۔جس طریق سے مخالف کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اس سے بجائے ہدایت کے ضلالت پھیلتی ہے۔(اہل حدیث ۱۹ را پریل ۱۹۰۷ ء ) یعنی وہ حدیثیں جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جھوٹی نبوت کے تمہیں ۳۰ دعویدار ہوں گے اور وہ سارے دجال ہوں گے اور لا نبی بعدی وغیرہ۔ان حدیثوں کو تو خوب اچھالتے ہیں لیکن اس حدیث کا ذکر نہیں کرتے جس میں یہ ذکر ہے کہ آنے والا مسیح ضرور نبی اللہ ہوگا اور دجال کی فہرست میں نہیں ہوگا، اس حدیث کو چھپا لیتے ہیں اور یہ حدیث تو ان کو بالکل یاد نہیں آتی جس میں فرمایا گیا ہے علماء هم شر من تحت اديم السماء جس طرح یہ اہل حدیث مولوی صاحب تجزیہ فرما رہے ہیں۔بالکل اسی طرح موجودہ مولوی اپنے مطلب کی حدیثیں تو خوب اچھالتے ہیں لیکن دوسری حدیثوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔پھر اہل حدیث ۲۰ / دسمبر ۱۹۲۱ء کے پرچہ میں لکھا ہے: ہم وہ ہیں کہ ہماری قومی سلب ہو چکے ہیں۔بہادری عنقا ہو چکی ہے۔اعضاء کمزور اور حقانی تڑپ ہمارے دلوں سے معدوم ہو چکی ہے۔بلکہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ تمام اعضاء مرچکے ہیں فقط ایک دہن اور اس میں ایک زبان باقی ہے۔اور وہ زبان کیا کام کرنے کے لئے کیوں باقی رہ گئی اس میں جان کس لئے باقی ہے؟ اس کا ذکر سنئے۔یہ بھی اہل حدیث کا ہفت روزہ تنظیم ہے جو ھر ستمبر ۱۹۶۹ء کی اشاعت میں زبان کے متعلق یوں رقم طراز ہے لیکن اس سے پہلے ایک اور دلچسپ لطیفہ بھی بیان کرتا ہے اور کہتا ہے، مولوی تھانوی مرحوم سے کسی نے پوچھا تھا کہ: یا حضرت! مولوی ہو کر لوگ جوتے چرا لیتے ہیں ، دھینگا مشتی پر اتر آتے ہیں۔۔۔۔۔یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟“۔آپ نے فرمایا : ”میاں! مولوی چور نہیں بنتا، چور مولوی بن جاتا ہے“۔