خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 272

خطبات طاہر جلدم 272 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء یہ بدترین مخلوق پیدا ہو چکی ہے یا نہیں تو جاننا چاہئے کہ یہی وہ اصل بحث ہے جس کے گرد یہ سارا مضمون گھومتا ہے۔اس بحث کے دو پہلو ہیں۔اول یہ کہ اگر یہ بدترین مخلوق ابھی پیدا نہیں ہوئی تو پھر بھی تم مارے گئے کیونکہ موجودہ مولویوں نے تمہارا یہ حشر کر دیا ہے تو کل جب علمائے سوء پیدا ہو جائیں گے۔وہ تمہارا کیا باقی رہنے دیں گے۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خوشخبری نہیں ہے یہ تو ہلاکت کی ایک خوفناک خبر ہے جس کو سن کر تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہئیں تھے۔لیکن ابھی تمہارے کہنے کے مطابق نیک مولویوں کا دور ہے اور امت کا یہ حال ہو گیا ہے تو خدانخواستہ جب اشرار الناس آئیں گے تو اس وقت تمہارا کیا باقی رہ جائے گا۔بایں ہمہ فتح اسلام کی خواہیں دیکھ رہے ہو۔اسلام کو دنیا میں از سر نو غالب کرنے کے کیا اطوار ہوتے ہیں؟ اگر تم میں ذرا بھی عقل ہوتی تو ان علماء کا پیچھا ہی چھوڑ دیتے اور کہتے کہ ہاں وہ پیدا ہو چکے ہیں اور اپنی موت مر گئے ہیں۔لیکن میں پوچھتا ہوں تم مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی بات مانو گے یا نہیں آخر وہ بھی تو تمہارے ایک مشہور مولوی تھے؟ وہ فرماتے ہیں: جتنی رسوم شرکیہ اور بدعیہ مسلمانوں میں آج کل ہو رہی ہیں وہ مولویوں ہی کی مہربانی کا اثر۔ہے۔۔۔۔۔۔شر الشر شرار العلماء 66 اہلحدیث ۲۳ فروری ۱۹۰۶ء) خدائی تقدیر دیکھیں کس طرح سچ نکلواتی ہے۔حضرت محمد علیہ نے فرمایا تھا اشرار ہوں گے۔مولوی خود بول اٹھے کہ ہاں ہم ہیں اشرار، ہم ہیں اشرار ، ہم ہیں اشرار، یہ بات یا درکھئے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کی بات ہے یعنی اس حوالہ کا تعلق آپ کی زندگی سے ہے۔اس کے باوجود تم کہتے ہو کہ اس وقت امت مسلمہ کا یہ حال تھا کہ گویا سارا عالم اسلام اکٹھا تھا اور فساد کی کلیۂ ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ڈالتے ہو جو سراسر خلاف واقعہ اور خلاف حقیقت ہے۔بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔اخبار اہل حدیث بڑی اہمیت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی شائع ہوتا تھا۔یہی اخبار لکھتا ہے: " قرآن میں یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے (اور مذمت کیا ہے ) کہ کچھ حصہ کتاب کا مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے۔افسوس کہ آج ہم اہل حدیثوں