خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد۴ 268 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء بھی قیمت نہیں ۔ الله پھر ایک موقع پر آنحضرت صلہ فرماتے ہیں : تَكُون فِي أُمَّتِي فِزْعَةٌ فَيُسِيرُ النَّاسُ إِلَى عُلَمَاءِ هِمْ فَإِذَا هُمْ قَردَةً وَ خَنَازِير۔ ( کنز العمال حرف القاف، الباب الاول الفصل الرابع في ذكر اشراط الساعة الکبری حدیث: ۳۸۷۲۷) میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں جھگڑے ہوں گے لڑائیاں ہوں گی۔ اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔ بظاہر تو لوگ یعنی عوام الناس ہی لڑتے ہیں لیکن ان کا کوئی قصور نہیں ہوگا وہ اپنے علماء کی طرف رجوع کریں گے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آخران کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے، وہ کیوں فتنہ و فساد کا شکار ہو گئے ہیں ۔ پس جب وہ اپنے علماء کے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سوروں کی طرح پائیں گے۔ یعنی وہ علماء نہیں ہیں بلکہ سور اور بندر ہیں ۔ یہ کس کے الفاظ ہیں؟ یہ میرے تو نہیں۔ یہ کسی اور عالم دین کے نہیں ، کسی صحابی کے نہیں ، کسی صلى الله عروسه ۔ ں ۔ یہ الفاظ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ لے کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی کیونکہ خلیفہ کے نہیں ! آپ کو ئی کلام اللہ سے خبر پائے بغیر نہیں کرتے تھے۔ ہر آدمی مولوی صاحبان سے پوچھنے کا یہ حق رکھتا ہے کہ جناب ! ان حدیثوں کو کیوں چھپا لیا جاتا ہے ۔ امت مسلمہ کے سامنے یہ حدیثیں کیوں بیان نہیں کی جاتیں؟ صلى الله۔ عروسه پس امت مسلمہ میں فتنہ و فساد برپا کرنے کا مسئلہ حل ہو چکا ہے حضور اکرم علی پہلے ۔ سے فرما چکے ہیں کہ امت میں فتنے ہوں گے، اختلافات ہوں گے، تفرقے پیدا ہوں گے لیکن ان کے ذمہ صلى الله دار علماء ہوں گے کوئی اور ذمہ دار نہیں ہوگا اور جب حضور اکرم ﷺ ایک بات بیان فرمائیں تو پھر صلى الله علی تعالیٰ کی تقدیر تمہارے منہ سے بات نکلوا کر چھوڑے گی کہ ہاں تم ذمہ دار ہو ۔ آنحضرت ﷺ کا خدا ۔ ارشاد تو رائیگاں نہیں جا سکتا۔ ایک اور حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں : عروسه د علم باقی نہیں رہے گا۔ لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے دین کی باتیں پوچھیں گے اور وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے