خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد۴ 264 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء میں تھے ہی تھوڑے ۔ اس لئے بیرونی دنیا خود ہی اس مسئلہ کونمٹا چکی ہے۔ پس جرات دیکھیں کہ نہ صرف یہ کہ ایک سراسر جھوٹا رسالہ شائع کیا بلکہ مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر اسے ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔ پڑھنے والا ان کے متعلق کیا سوچے گا کہ جماعت احمد یہ یورپ میں بھی نہیں رہی، افریقہ میں بھی نہیں رہی ، امریکہ میں بھی نہیں رہی ، ہر ایک ملک میں ان کی صف لپیٹ دی گئی ہے کیونکہ یہ بالکل معمولی سی تعداد میں تھے اس لئے ہر ملک میں بڑی عمدگی سے اس مسئلہ سے نمٹا جا چکا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جماعت احمد یہ کیا فساد مچاتی ہے۔ شیخو شغاری صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا: ” یہ امر میرے لئے باعث سکون ہے کہ جماعت احمد یہ تبلیغ اسلام ، وو سکولوں اور ہسپتالوں کے قیام میں بدستور بڑے عزم و ثبات کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس جہت میں جماعت کی مساعی انتہائی قابل تعریف اور دوسری رضا کار تنظیموں کے لئے باعث تقلید ہیں۔ جن پر جماعت احمد یہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ یہ ہے مسئلہ جو دساور کو بھیجا گیا تھا اور اس سے اس طرح نمٹ لیا گیا ہے۔ اور سیرالیون مسلم کانگریس کے صدر اور ملک کے وزیر مملکت مصطفیٰ سنوسی نے فرمایا: احمدیت ایک سچائی ہے اور سچائی کے لئے دن رات ہماری بے لوث خدمت کر رہی ہے۔ ۱۲ سیکنڈری سکول اور ۵۰ پرائمری سکول چلانا معمولی بات نہیں ۔ یہ کام صرف اخلاص، جذبہ، نیک نیتی جیسی خوبیوں سے آراستہ لوگ 66 ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کی تعلیمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے سیرالیون کے وزیر رسل و رسائل آنریبل کا نڈے بورے نے ایک موقع پر فرمایا: ایک بہت ہی قلیل عرصہ میں جماعت احمد یہ نے بڑے کارنامے کر یہ دکھائے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے بہت سے پرائمری سکولوں کے علاوہ سیکنڈری سکول بھی قائم کئے ہیں ۔ لوگوں کی خدمت کے لئے احمدی ڈاکٹر تشریف لا رہے ہیں اور لوگوں کی روحانی اصلاح کے لئے مبلغین ملک کے تقریباً ہر حصہ