خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد۴ 263 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء آنے دیا گیا۔اخباروں نے بھی کوئی خبر شائع نہ کی تو احمدیت کی بیخ کنی پر مامور پاکستانی وفد ہمارے مبلغ سے درخواست کرنے پر مجبور ہو گیا اور کہنے لگا بڑے بے عزت اور ذلیل ہورہے ہیں۔خدا کے لئے ہمارا کچھ انتظام کرو۔ہم واپس جا کر کیا منہ دکھا ئیں گے۔چنانچہ ہمارے مبلغ نے اس وقت کے نائب وزیر اعظم سے درخواست کی کہ پاکستانی ہمارے بھائی ہیں اتنا ظلم نہ کرو۔خواہ کسی بھی نیت سے وزیر سے کہ بھائی نیت آئے ہیں۔ان کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی تو ضرور ہونی چاہئے۔چنانچہ نائب وزیر اعظم صاحب نے کہا ہم ان کی دعوت کرتے ہیں اور آپ بھی تشریف لائیں اور خطاب کریں۔چنانچہ وفد کی دعوت کی گئی اور وہاں انہوں نے جو خطاب کیا اس میں بھی وہ شرارت سے باز نہ آئے اور بعض ایسے فقرے استعمال کر دیے جن سے جماعت احمدیہ کے متعلق شکوک پیدا ہو سکتے تھے۔نائب وزیر اعظم صاحب بڑے ذہین آدمی تھے مسکرا کر سنتے رہے۔آخر میں جب وہ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میاں ! آپ کس جہان کی بات کر رہے ہیں۔افریقہ پر جب دنیا کی نظر ہی کوئی نہیں تھی کیونکہ یہ ایک تاریک براعظم تصور کیا جاتا تھا، جب افریقہ کا نام مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ وابستہ تھا، اس وقت آپ لوگ تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔کس نے ہماری فکر کی یہ جماعت احمد یہ ہے جس نے ہمیں عیسائیوں کے چنگل سے نجات دلائی۔یہ جماعت احمدیہ ہے جس نے ہمیں انسانیت کے سبق سکھائے۔اس جماعت کے متعلق آج تم یہ کہنے کے لئے آگئے ہو کہ تمہارے تعلقات کی بناء پر ہم اس جماعت کی دشمنی شروع کر دیں تو یہ خیال دل سے نکال دو۔یہ خیال واپس لے جاؤ اپنے ملک میں۔یہ جماعت ہماری محسن ہے اور ہم اور جو کچھ بھی ہوں محسن کش بہر حال نہیں۔مگر اب یہ لوگ سارے واقعات بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں افریقہ میں پتہ ہی کچھ نہیں کیا ہو رہا ہے۔بس قرطاس ابیض پڑھیں گے اور ایک دم کہہ دیں گے اوہ ! بڑی خراب جماعت ہے۔اس کو ہلاک کر دینا چاہئے۔ساری دنیا ہوش رکھتی ہے بے عقل نہیں ہے ان کو پتہ ہے کیا ہورہا ہے۔وہ نہ صرف اپنی تاریخ سے واقف ہیں بلکہ تمہاری تاریخ سے بھی واقف ہیں۔اور پھر اور سنئے ! شیخو شغاری صاحب جو نائیجریا کے سابق صدر تھے انہوں نے جماعت احمدیہ کی طرف سے کیا فساد دیکھا اور کس طرح اس مسئلہ کو نمٹایا، اس کا پتہ ذیل کے اقتباس سے لگ جاتا ہے۔ویسے پاکستان میں تو کہتے ہیں کہ نمٹ لیا گیا ہے، ختم ہو گیا ہے یہ مسئلہ اور باہر کی دنیا