خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد۴ 260 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء تبلیغی مشن قائم کیا گیا۔غرضیکہ آپ سارے عالم کا جائزہ لیں تو یہ امر بخوبی سمجھ میں آجاتا ہے کہ جماعت احمد یہ تو خدا کے فضل سے مدتوں پہلے اکناف عالم میں پھیل بھی چکی تھی اور دنیا میں کیا کام کر رہی تھی اب یہ حصہ رہ گیا ہے تو اب اس کو بھی میں بیان کر دیتا ہوں اور اس سلسلہ میں ایسے ایسے لوگوں کی رائے آپ کو سناتا ہوں جن کی آراء پر تمہیں اعتماد کرنا پڑے گا۔یہ احمدی تو نہیں مگر اس کے باوجود حق بات ان کی زبان پر جاری ہو رہی ہے۔چنانچہ اخبار زمیندار نے دسمبر ۱۹۲۶ء میں لکھا: ”ہم مسلمانوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے دین مقدس کو پھیلانے کے لئے کیا جدو جہد کر رہے ہیں۔ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان آباد ہیں۔کیا ان کی طرف سے ایک بھی قابل ذکر تبلیغی مشن مغربی ممالک میں کام کر رہا ہے؟ ( مگر لکھنے والے کو پتہ نہیں تھا کہ ابھی تیل دریافت نہیں ہوا۔ناقل ) گھر بیٹھ کر احمدیوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے۔لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یوروپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء، دیو بند، فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تبلیغ واشاعت حق کی سعادت میں حصہ لیں۔کیا ہندوستان میں ایسے متمول مسلمان ہیں جو چاہیں تو بلا دقت ایک ایک مشن کا خرچ اپنی گرہ سے دے سکتے ہیں۔یہ سب کچھ ہے لیکن افسوس کہ عزیمت کا فقدان ہے۔فضول جھگڑوں میں وقت ضائع کرنا اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا آج کل کے مسلمانوں کا شعار ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بے راہ قوم پر رحم کرے“۔( زمیندار دسمبر ۱۹۲۶ء) اور انقلاب ۲ رمئی ۱۹۳۰ء لکھتا ہے: در تبلیغی مذہب والے کو اس چیز کی نشر وتبلیغ کی دھن ہوتی ہے جس کو وہ سچا سمجھتا ہے۔پھر لکھتا ہے:۔مسلمانوں کی موجودہ خوابیدہ حالت کو دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ان