خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 259
خطبات طاہر جلدم 259 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء اہلحدیث ۱۸ فروری ۱۹۲۱ء ہمدم ۱۸ ستمبر ۱۹۲۰ء مستقل ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۹ء اہلحدیث ۱۴؍ جنوری ۱۹۲۱ء اہلحدیث ۲۸ / جنوری ۱۹۲۱ء اہلحدیث ۱۶ را پریل ۱۹۱۰ء اخبار سیاست ۵/نومبر ۱۹۲۵ء اخبار ملاپ ۱۶ راگست ۱۹۲۵ء اخبار مدینہ یکم اپریل ۱۹۲۵ء اخبار ہمدم ۱۷ار جنوری ۱۹۲۵ء اخبارا نقلاب یکم جون ۱۹۳۰ء اہلحدیث ۲۵ /جنوری ۱۹۲۰ء اخبار طوفان ۲۷ ستمبر ۱۹۳۰ء اخبار تنظیم ۸/نومبر ۱۹۲۵ء اخبار اتحاد ۳۱ رمئی ۱۹۳۱ء اخبار ہمت ۲۴ اگست ۱۹۲۹ء اخبار مشرق ۱۶ رمئی ۱۹۳۰ ء وغیرہ نے تفصیلی تبصرے کئے ہیں۔اور یہ تو صرف چند مشہور اخبارات کے تبصرے ہیں۔اس موضوع پر مختلف کتب میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے خود مودودی صاحب کی کتب میں بکثرت حوالے موجود ہیں جو اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔اب جہاں تک مزعومہ قرطاس ابیض کی اس بات کا تعلق ہے کہ جب ۱۹۵۳ء کی تحریک چل پڑی اور پاکستان میں گڑ بڑ ہوئی تو گویا اس کے بعد پھر احمدیوں نے باہر نکلنا شروع کیا اور پھر یہ یورپ بھی پہنچ گئے ، افریقہ بھی پہنچ گئے۔اس رسالہ کا یہ فقرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے !! ہوش سے بات کرو۔عقل کے ناخن لو، پاکستان کا تو ابھی وجود بھی نہیں تھا۔تم خود مانتے ہو بلکہ بڑے فخر سے کہتے ہو کہ سوسالہ مسئلہ تم نے حل کر دیا ہے۔پس جماعت احمد یہ تو خدا کے فضل سے قیام پاکستان سے پہلے قائم ہو چکی تھی اور تمام دنیا میں پھیل چکی تھی۔پاکستان بننے کے بعد تو تم نہیں پھیلے۔چنانچہ امریکہ میں ۱۹۲۰ء میں باقاعدہ مشن قائم ہو چکا تھا۔انگلستان میں ۱۹۱۳ء میں مشن قائم ہوا۔یہ جگہ جہاں آپ اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں ۱۹۲۰ء میں خریدی گئی۔انگلستان کے پہلے مبلغ حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔غانا اور نائیجریا مغربی افریقہ میں ۱۹۲۱ء میں مشن نے کام کرنا شروع کیا۔مشرقی افریقہ میں ۱۸۹۶ء یعنی بیسویں صدی سے بھی پہلے جماعت احمدیہ قائم ہو چکی تھی ویسے با قاعدہ مشن ۱۹۳۴ء میں کھولا گیا۔ہنگری، پولینڈ اور چیکوسلواکیہ میں ۱۹۳۰ء میں تبلیغی مراکز کھولے جاچکے تھے۔اسی طرح سپین ، اٹلی اور البانیہ میں بھی ۱۹۳۶ء میں مشن قائم ہوئے۔برما میں بھی ۱۹۳۵ء میں