خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 254
خطبات طاہر جلدم 66% 254 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء دفعہ پردہ اٹھ گیا دنیا کو صاف نظر آ گیا کہ امت مسلمہ اگر کسی مجتمع شیرازہ اور کسی بندھی ہوئی تسبیح کا نام ہے تو آج صحیح معنوں میں امت مسلمہ ہی موجود نہیں ہے بلکہ منتشر اوراق ہیں۔چند بکھرے ہوئے دانے ہیں چند بکھری ہوئی بھیڑیں ہیں جن کا نہ کوئی ریوڑ ہے اور نہ گلہ بان“۔اور زمیندار اخبار اپنی ۱۸ ر ستمبر ۱۹۲۵ء کی اشاعت میں مسلمانان ہند کو آنحضرت ﷺ کی طرف سے مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے: تم کہلاتے تو میری امت ہو مگر کام یہودیوں ، بت پرستوں کے کرتے ہو۔تمہارا شیوہ وہی ہو رہا ہے جو عاد اور ثمود کا تھا کہ رب العالمین کو چھوڑ کر بعل ، یغوث، نسر اور یعوق کی پرستش کر رہے ہو۔تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو میری توہین کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارا سلسلہ جماعت احمدیہ نے شروع کروایا تھا ؟ آخر لوگ کیوں خدا کا خوف نہیں کھاتے اور ایسے جھوٹ اور ایسے بہتان کیوں باندھ رہے ہیں جن کو کوئی بھی معقول انسان ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔اسی پس منظر پر ذرا نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے سے پہلے امت مسلمہ کا جو حال تھاوہ بعد میں بھی جاری رہا تو عقل بے اختیار بول اٹھتی ہے کہ اس قوم کو تو کوئی زندہ کرنے کے لئے ہی آسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اسے مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو پہلے ہی دینی و دنیوی ہر دو لحاظ سے مردہ تھے اور عملاً یہی ہوا کچھ زندگی کے آثار جوان کے اندر پیدا ہوئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے پیدا ہوئے یعنی کچھ لوگ وہ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کر کے زندگی حاصل کی ، کچھ وہ ہیں جو آپ کی مخالفت کی وجہ سے اکٹھے ہو رہے ہیں قُلُوبُهُمُ شتی دل تو ان کے پھٹے ہوئے ہیں لیکن یہ جو تھوڑا سا سہارا ملا ہے۔یہ جو سانس لینے کے دن مل گئے ہیں یہ صرف احمدیت کی مخالفت کی وجہ سے ہے۔اخبار البشیر ا ٹا وہ ستمبر ۱۹۲۵ء لکھتا ہے: " بعثت پیغمبر آخرالزماں کے وقت عیسائیوں اور یہودیوں میں جو