خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 253

خطبات طاہر جلدم 253 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۸۵ء ” دوسری طرف فرق اسلامیہ کا آپس کا اختلاف تشویشناک صورت اختیار کر گیا تھا۔ہر فرقہ دوسرے فرقہ کی تردید میں سرگرم اور کمر بستہ تھا۔مذہبی مناظروں اور مجادلوں کا بازار گرم تھا جن کے نتیجہ میں اکثر زدو کوب قتل و قتال اور عدالتی چارہ جوئیوں کی نوبت آتی۔سارے ہندوستان میں ایک مذہبی خانہ جنگی سی بر پا تھی۔اس صورت حال نے بھی ذہنوں میں انتشار، تعلقات میں کشیدگی اور طبیعتوں میں بیزاری پیدا کر دی تھی۔پھر فرماتے ہیں: مسلمانوں پر عام طور پر یاس و ناامیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔۱۸۵۷ء کی جدوجہد کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چکے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور ملہم اور موید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی۔( قادیانیت صفحه ۱۶، ۱۷ از مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ناظم ندوۃ العلما لکھنو) دیکھیں جب خدا سچ نکلوانا چاہتا ہے تو یوں سچ نکلوا دیتا ہے۔تلبیس اسی کو کہتے ہیں، ایک طرف جھوٹ بول رہے ہیں حقیقت پر پردے ڈال رہے ہیں۔دوسری طرف کچھ اور باتیں بھی بیان کر رہے ہیں جن میں سے بیچ اچانک اچھل کر باہر آ جاتا ہے اور حقیقت حال کھل کر سامنے آجاتی ہے۔یہ پس منظر تھا اور اس سلسلہ میں مسلمان علماء کے بکثرت حوالے موجود ہیں جن میں مسلمانوں کے نکبت وادبار کے نقشے کھینچے گئے ہیں۔اتنے حوالے ہیں کہ ہزاروں صفحات کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر اس وقت میں نے چند حوالے چنے ہیں۔اخبار وکیل ۱۵ جنوری ۱۹۲۷ء میں لکھا ہے؛ اس مرض کا حدوث آج سے نہیں بلکہ آج سے بہت پہلے شروع ہو چکا ہے۔مسلمانوں نے پہلے انفرادی زندگی میں یہود اور نصاریٰ کی اتباع کی اور اب اجتماعی زندگی میں کرنے لگے اس کا نتیجہ تنسیخ خلافت ہے۔اور مولویوں کا مشہور اخبار ”الجمعیۃ‘ دیلی ۴ را پریل ۱۹۲۶ء لکھتا ہے: