خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 252

خطبات طاہر جلدم 252 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء نہیں۔ہمارے پاس ان مولویوں کی Tapes موجود ہیں جن میں وہ گندی زبان استعمال کرتے اور لوگوں کو ظلم وستم پر ابھارتے ہیں اور اس وقت پاکستان میں جو گند اچھالا جا رہا ہے وہ باہر بھی نکل رہا ہے۔تمہارے ہی آدمی باہر نکل کر ویسی ہی تقریریں کر رہے ہیں جو پاکستان میں احمدیوں کے خلاف کی جارہی ہیں۔ماریشس میں اس وقت کیا ہو رہا ہے، ناروے میں تم لوگوں نے پہنچ کر کیا گوہر افشانیاں کی ہیں یہ ساری Tapes Recording ہمارے پاس موجود ہے۔اس کے باوجود تم سمجھتے ہو دنیا پاگل ہے جو تمہاری باتوں پر یقین کرلے گی کہ احمدی تو فساد پھیلایا کرتے تھے اور یہ دوسرے غیر احمدی مسلمان بیچارے بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ بیٹھے رہے اور انہوں نے اس کے باوجود ان کے خلاف کچھ نہیں کیا۔یہ تمام تصویر جوکھینچی جارہی ہے اس کے تین پہلو ہیں جن میں سے ایک ۱۹۵۳ء کی تحریک سے تعلق رکھنے والا پہلو تھا۔جو بات عموماً باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے پہلے مسلمان یک جان دو قالب تھے اور ایک مٹھی کی طرح مجتمع تھے۔ان میں کوئی تفرقہ اور خرابی نہ تھی ، ایسی عظیم طاقت تھے کہ استعماری طاقتیں ان سے کانپ رہی تھیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کا بیج بویا تا کہ مسلمانوں میں فساد پھیل جائے اور مسلمانوں کی جمعیت منتشر ہو جائے اور اسلام کی طرف سے استعماری طاقتوں کو جو نہایت ہی مہیب خطرہ لاحق ہے، وہ ٹل جائے۔یہ وہ نقشہ ہے جو مزعومہ قرطاس ابیض میں جماعت احمدیہ کے خلاف کھینچا جا رہا ہے حالانکہ واقعات اس کے برعکس ہیں۔چنانچہ وہی کتابیں جو خود شائع کر رہے ہیں وہاں مصنف کے اپنے قلم سے سچائی کا اظہار ہو جاتا ہے۔ایک کتاب جس کی یہ لوگ خوب اشاعت کر رہے ہیں۔یعنی پاکستان کی وزارت مذہبی امور کی طرف سے جولٹریچر شائع ہو رہا ہے اس میں ایک کتاب ” قادیانیت از مولوی سید ابوالحسن علی ندوی بھی شامل ہے۔حکومت پاکستان نے اس کتاب کو تمام دنیا میں شائع کروایا ہے اور عربی انگریزی میں اس کے ترجمے بھی کروائے ہیں۔غور کیجئے مزعومہ قرطاس ابیض میں تو یہ منظر کھینچ رہے ہیں کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے پہلے مسلمانوں میں امن تھا اور آپس میں بے حد محبت تھی لیکن مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالنے کے لئے انگریزوں نے یہ جماعت کھڑی کر دی جب کہ کتاب ”قادیانیت“ کے مصنف صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے پہلے کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں: