خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 250
خطبات طاہر جلدم 250 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء کی مسلمان اقوام خصوصا افریقی مسلمان اسی طرح کی تلخی اور تفرقہ کا شکار ہوئے“۔( قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ۔خلاف اسلام سرگرمیاں روکنے کیلئے حکومت کے اقدامات صفحہ 1) اور پھر ۱۹۵۳ء کی تحریک اور اس کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے مزعومہ قرطاس ابیض لکھتا ہے: اسی مسئلہ نے پاکستان کے سیاسی وجود میں نفرت اور فرقہ واریت کا زہر گھولنا شروع کر دیا۔اس اثناء میں قادیانیوں نے بیرون ملک وفود بھیجنے شروع کر دیئے۔جہاں انہوں نے اپنے لئے تبلیغی مراکز قائم کرنے شروع کر دیئے۔انہوں نے اس قسم کے تبلیغی مراکز افریقہ، یورپ، اور شمالی اور جنوبی امریکہ کے ملکوں میں قائم کئے لیکن چونکہ عددی اعتبار سے کہیں بھی وہ نمایاں قوت نہیں تھے جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد قابل لحاظ تھی اور وہ یہاں مضبوط اور اچھی طرح قدم جمائے ہوئے تھے اس لئے دوسرے ملکوں میں ان کے ساتھ آسانی سے نمٹ لیا گیا۔(صفحہ ۳۸) یہ عبارت تلبیس اور دجل کا شاہکار ہے۔اس کے پورے تجزیہ کے لئے تو بڑا لمبا وقت چاہئے۔مختصر پہلے تو میں یہ کہتا ہوں کہ ۱۹۵۳ء کی جوتحریک تھی اس میں فساد اور نفرت کے زہر گھولنے کا ذمہ دار کون تھا ؟ اس کے لئے اس حکومت کے نمائندوں کو کیوں یہ خیال نہ آیا کہ منیر انکوائری رپورٹ پڑھ لیں اور وہ تجزیہ دیکھ لیں جو عدالت عالیہ نے پیش کیا ہے۔اس عدالت کے ججوں کا نام قانون دان برادری میں تمام دنیا میں عزت سے یاد کیا جاتا ہے۔جسٹس محمد منیر کوئی معمولی حیثیت کے قانون دان نہیں تھے۔اسی طرح جسٹس کیانی بھی بڑے بلند پایہ قانون دان اور منصف تھے۔ان کی رپورٹ کیا کہتی ہے وہ ساری رپورٹ پڑھنے کا تو وقت نہیں لیکن اس موضوع پر اگر رپورٹ کے چند اقتباسات بھی اکٹھے کر لئے جائیں تو بڑے دلچسپ خطاب کا موضوع بن جاتا ہے لیکن میں وقت کی مناسبت سے صرف ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا کہ مفسد کون تھا، گندا ذہن کون تھا ، معاشرہ میں زہر گھولنے والا اصل شخص کون تھا یا کون سی جماعت تھی ؟ چنانچہ فاضل جج لکھتے ہیں :